موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کانگریس کی حکمت عملی: کشمیر اور لداخ کی عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں

نئی دہلی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے قومی جنرل سکریٹری سید ناصر حسین نے اعلان کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے بعد جلد ہی جموں و کشمیر اور لداخ کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا مقصد دونوں خطوں میں پارٹی کی حیثیت کو مستحکم کرنا اور عوامی حمایت حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی ترجیحات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کانگریس کو عوام میں مؤثر اور فعال بنانا ہے تاکہ وہ ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھر سکے۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں اور کیسے؟

سید ناصر حسین، جو کہ کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ہیں، نے بتایا کہ جب سے انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا ہے، وہ مسلسل جموں و کشمیر اور لداخ کے کانگریسی رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔ یہ ملاقاتیں ان دونوں خطوں کے سیاسی و تنظیمی مسائل پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کے کارکنوں اور عوام کا جوش و خروش یہ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی ان علاقوں میں ایک مؤثر متبادل بن سکتی ہے۔

دورے کا شیڈول پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے بعد کا ہے، جو کہ دسمبر میں ہوگا۔ اس کے بعد وہ دونوں خطوں کا دورہ شروع کریں گے جہاں وہ پارٹی کارکنوں، رہنماؤں اور عوام سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کا مقصد زمینی صورتحال کا جائزہ لینا اور کانگریس کی موجودگی کو مضبوط کرنا ہے۔

راہل گاندھی سے ملاقات:

انہوں نے حال ہی میں کانگریس کے سینئر رہنما اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے جموں و کشمیر اور لداخ کی سیاست پر تفصیل سے بات چیت کی۔ راہل گاندھی نے انہیں رہنمائی فراہم کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

راہل گاندھی نے ‘بھارت جوڑو نیائے یاترا’ کا بھی ذکر کیا، جس کا اختتام کشمیر میں ہوا تھا۔ انہوں نے اس یاترا کو قومی یکجہتی، سماجی انصاف اور عوامی فلاح و بہبود کے عزم کا اظہار قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات سے کانگریس کی مرضی کو عوام تک پہنچانا ضروری ہے۔

کانگریس کا عزم:

سید ناصر حسین کا کہنا ہے کہ کانگریس کے اندر جوش و خروش اور عوامی مسائل کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، وہ امید کرتے ہیں کہ پارٹی ان دونوں خطوں میں تیزی سے اپنا اثر و رسوخ بحال کرے گی۔ ان کا عزم ہے کہ وہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کریں گے۔

اس ضمن میں، سید ناصر حسین نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن ہونے کے ناطے اپنے تجربات کا سنا کر کہا کہ نوجوان نسل کو سیاست میں شامل کرنا اور ان کی شمولیت کو فروغ دینا ضروری ہے۔

سید ناصر حسین کی سیاہ فہرست:

سید ناصر حسین، جو راجیہ سبھا کے رکن بھی ہیں، اپنی طلباء کے زمانے سے ہی کانگریس کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے پارٹی قیادت، خاص طور پر راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے، اور سونیا گاندھی کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان رہنماؤں کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے باعث فخر ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

جموں و کشمیر اور لداخ کی اہمیت:

جموں و کشمیر اور لداخ، ہندوستان کے شمالی سرحدی علاقوں میں واقع ہیں اور ان کی اپنی ایک منفرد ثقافت اور تاریخ ہے۔ یہ علاقے متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جیسے کہ سیاسی عدم استحکام، اقتصادی مشکلات، اور سماجی فلاح و بہبود کی کمی۔ کانگریس کا مقصد یہ ہے کہ وہ ان مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی تیار کرے۔

کانگریس کی کوششیں صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ سماجی مسائل جیسے تعلیم، صحت اور اقتصادی ترقی کو بھی ہدف بنائیں گے۔ سید ناصر حسین نے کہا کہ ان کی کوششیں عوامی ضرورتوں کے جواب دینے میں مدد کریں گی اور اس میں نوجوانوں کو شامل کرنے کی خاص توجہ دی جائے گی۔

آگے کا راستہ:

جہاں تک انتخابات کی بات ہے، کانگریس کی حکمت عملی میں عوامی مسائل کو ترجیح دینا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سید ناصر حسین نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کریں تاکہ ان کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

علاوہ ازیں، وہ اس بات پر زور دیں گے کہ کانگریس کو مختلف طریقوں سے عوامی حمایت حاصل کرنی ہوگی، جیسے کہ سماجی پروگرامز اور عوامی شمولیت کے منصوبے۔

اہمیت کی حامل کوششیں:

سید ناصر حسین کا کہنا ہے کہ ان کے دورے سے پارٹی کے کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ مزید موثر انداز میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کام کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کو لوگوں کے دلوں میں دوبارہ اپنی حیثیت بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر ابھر سکیں۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔