موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی کے آنند وِہار میں جھگی میں لگی آگ، 3 مزدوروں کی زندہ جل کر موت کا واقعہ پیش آیا

شدید حادثہ: مزدوروں کی جانیں ضائع ہو گئیں

دہلی کے آنند وِہار میں ایک دردناک اور دل دُکھانے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک جھگی میں آگ لگنے کے نتیجے میں تین مزدوروں کی زندگیاں لقمۂ اجل بن گئیں۔ یہ حادثہ پیر کی رات ہوا جب مزدور اپنے کام کے بعد آرام کر رہے تھے۔ جائے وقوع پر موجود گواہوں کے مطابق، آگ لگنے کے واقعے کی اطلاع رات کے تقریباً 2:42 بجے آنند وِہار پولیس اسٹیشن کو ملی۔

آگ لگنے کے وقت جھگی میں موجود مزدوروں کی عمریں مختلف تھیں، جن میں 30 سالہ جگی، 40 سالہ شیام سنگھ، اور 37 سالہ کانتا پرساد شامل تھے۔ یہ سبھی مزدور اتر پردیش کے باندا اور اوریا کے رہائشی تھے اور یہاں آئی جی ایل میں کیزوئل مزدور کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ جائے وقوع پر موجود ایک اور مزدور کیلاش سنگھ بھی وہاں سو رہا تھا، تاہم وہ اس خوفناک واقعے میں متاثر نہیں ہوا۔

 آگ لگنے کا سبب اور حادثے کی تفصیلات

آتشزدگی کا واقعہ خاص طور پر اس وقت پیش آیا جب مزدور ٹنٹ میں سو رہے تھے۔ رات میں تقریباً 11 بجے، ان مزدوروں نے ٹنٹ کی روشنی کے لیے ڈیزل والی ڈبیا جلا رکھی تھی، جو کہ ایک خطرناک شے تھی۔ ٹنٹ کی ایک عارضی گیٹ تھی جسے مزدوروں نے بلاک کر دیا تھا، جس کے باعث انہیں باہر نکلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک زندہ بچ جانے والے مزدور نتن سنگھ نے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ شیام سنگھ نے رات دو بجے ٹنٹ میں آگ لگنے کی خبر دی اور اس نے انہیں جگایا۔ جب انہوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی تو گیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ نتیجتاً، جگی، شیام سنگھ، اور کانتا پرساد آگ میں جھلس کر اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ نتن سنگھ نے کسی طرح باہر نکلنے میں کامیابی حاصل کر لی، لیکن اس کی حالت بھی کافی خراب ہو گئی۔

 آگ لگنے کے بعد کی صورتحال

آگ لگنے کے بعد ایک گیس سلنڈر میں دھماکہ بھی ہوا، جس نے فضاء میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں فوراً جائے حادثہ پر پہنچیں اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کیں۔ اسی اثنا میں، کرائم اور ایف ایس ایل ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی اور حالات کا جائزہ لیا۔ مہلوکین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دیا گیا، جبکہ پولیس نے پورے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف ان مزدوروں کے دوستوں اور اہل خانہ کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے بلکہ اس نے دہلی کی غیر محفوظ رہائشی حالتوں کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ حکومت کی جانب سے مزدوروں کی حفاظت اور ان کی رہائش کی فراہمی کے سلسلے میں مزید اقدامات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

 مزدوروں کی حفاظت کا مسئلہ

اس واقعے نے دہلی کی مزدوروں کی حالت زار کی عکاسی کی ہے۔ مزدوروں کو یہ بنیادی حقوق حاصل نہیں ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو محفوظ رکھ سکیں۔ اکثر مزدوروں کو غیر محفوظ رہائش فراہم کی جاتی ہے، جہاں حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے مزدوروں کی حفاظت کے لئے مؤثر اقدامات کریں۔

دہلی میں اس طرح کے حادثات کا دو بارہ ہونے سے بچنے کے لئے، یہ اولین ضرورت ہے کہ مزدوروں کے لئے محفوظ رہائش کے معیارات قائم کیے جائیں۔ علاقائی حکومتوں کو بھی چاہئے کہ وہ ایسے تمام مزدوروں کو مناسب رہائش فراہم کریں جو قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

حادثے کی اصل وجوہات کی تحقیقات

پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات کے لئے مختلف زاویوں سے کام کرنا شروع کر دیا ہے، تاکہ یہ جان سکیں کہ آگ کیسے لگی اور آیا کہ کوئی انسانی غلطی تو نہیں تھی۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی جانچ کی جائے گی کہ آیا جھگی میں غیر قانونی طور پر رہائش اختیار کی گئی تھی یا نہیں۔

پولیس کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ ایسے حادثات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ اس حادثے کے بعد عوامی سطح پر یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ مزدوروں کے لئے رہائش کی حالت کو بہتر بنایا جائے اور انہیں بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔