موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جنوب مشرقی ایشیا میں پھنسے 283 ہندوستانیوں کی محفوظ واپسی کا عمل مکمل

ہندوستانی حکومت کی موثر کارروائی: 283 پھنسے شہریوں کی وطن واپسی

نئی دہلی: حال ہی میں، 283 ہندو شہریوں کو میانمار اور دیگر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے بحفاظت واپس لایا گیا ہے، جہاں وہ فرضی روزگار کے جال میں پھنس گئے تھے۔ یہ لوگ تھائی لینڈ کے مائی سوت ہوائی اڈے سے ایک خصوصی پرواز کے ذریعے واپس آئے، جس کی پرواز ہندوستانی فضائیہ نے فراہم کی۔ یہ واقعہ ایک سنجیدہ مسئلے کی عکاسی کرتا ہے جس میں غیر قانونی روزگار ریکٹس کے ذریعے شہریوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کا سلسلہ جاری ہے۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں اور کیسے؟

کون: یہ 283 ہندوستانی شہری ہیں، جنہیں حکومت ہند نے بھرپور کوششوں کے بعد بحفاظت وطن واپس لانے میں کامیابی حاصل کی۔

کیا: ان افراد کو فرضی روزگار کے سلسلے میں دھوکہ دے کر میانمار اور تھائی لینڈ میں لے جایا گیا تھا، جہاں انہیں سائبر کرائم اور دیگر دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث کیا گیا۔

کہاں: یہ سب افراد تھائی لینڈ کے مائی سوت ہوائی اڈے پر جمع ہوئے تھے، جہاں سے انہیں واپس وطن روانہ کیا گیا۔

کب: یہ کارروائی پیر کی رات کو شروع ہوئی اور یہ لوگ منگل کی صبح دہلی پہنچے۔

کیوں: ان افراد کو ایک سازش کے تحت دھوکہ دیا گیا تھا تاکہ انہیں مجبوراً ایسے کاموں میں لگایا جائے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

کیسے: ہندوستانی فضائیہ کے ایک طیارے نے ان افراد کو بحفاظت واپس لانے کا عمل انجام دیا، جبکہ ہندوستانی سفارت خانے نے مقامی حکام کے ساتھ مل کر ان کی رہائی کو یقینی بنایا۔

حکومتی کوششیں اور عوامی آگاہی

ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر واضح کیا ہے کہ حکومت ہند نہ صرف ان افراد کی واپسی کے لیے کوشاں رہی بلکہ اسی دوران عوام کی آگاہی کے سلسلے میں بھی مؤثر اقدامات کیے۔ وزارت نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی ملازمت کی پیشکشوں کے سلسلے میں احتیاط برتیں اور کسی بھی پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کریں۔

مزید برآں، وزارت نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی آجروں کے حوالے سے مکمل جانچ پڑتال کریں، خاص طور پر ان کمپنیوں اور ایجنٹس کے ٹریک ریکارڈ کو ضرور دیکھیں۔ اس حوالے سے حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر کئی معلوماتی مشورے بھی شائع کیے ہیں، تاکہ لوگ ان فرضی ریکٹس کے خطرات سے آگاہ رہے۔

فرد کی سلامتی اہمیت رکھتی ہے

حکومت ہند، وقتاً فوقتاً، سوشل میڈیا پوسٹس اور دیگر ذرائع کے ذریعے عوام کو اس خطرے کے بارے میں آگاہ کرتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ہندوستانی شہریوں کو کسی بھی مشکوک ملازمت کی پیشکش یا صورتحال میں فوراً ہندوستانی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رابطہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

یہ واقعی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، کیونکہ ایسے دھوکہ دہی کے واقعات نہ صرف ان لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں بلکہ ان کے خاندانوں میں بھی بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ مزید برآں، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر کوئی شہری کسی ایسے واقعے میں پھنس جائے تو اس کی بازیابی کے لیے حکومت کی کوششیں ہمیشہ جاری رہتی ہیں، جیسا کہ اس حالیہ واقعے میں ظاہر ہوا۔

بہتر مستقبل کے لیے آگاہی ضروری ہے

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ترقی کے باوجود، دھوکہ دہی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یقیناً، ہر ایک کو انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہونی چاہئیں۔ حکومت ہند کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات ایک تو ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو پھنسے ہوئے ہیں، لیکن دوسری طرف، اس طرح کی واقعات کی روک تھام کے لیے عوام کو آگاہ کرنا بھی لازم ہے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔