یوپی حکومت کے وزیر نے ہولی کے رنگوں سے تحفظ کے لیے متنازعہ مشورہ دیا
اس وقت پورے ملک میں ہولی کے موقع پر سیاست میں گرمی بڑھ گئی ہے۔ اس معاملے میں یوپی حکومت کے وزیر رگھو راج سنگھ کا ایک متنازعہ بیان سامنے آیا ہے، جس نے سماجی اور سیاسی حلقوں میں کافی ہلچل مچائی ہے۔ وزیر رگھو راج نے کہا کہ "جن کو ہولی کے رنگوں سے بچنا ہے، وہ ترپال کا حجاب پہن کر گھر سے نکلیں”۔ اس بیان میں انہوں نے ہولی کی مذہبی اور ثقافتی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ خطرات کی بھی بات کی۔
پولیس افسر نے متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہولی کو عید سے اہمیت حاصل کرنی چاہیے
رگھو راج سنگھ کے اس بیان کے بعد، سنبھل کے سی او انوج چودھری نے بھی ایک متنازعہ بیان دیا جس میں کہا کہ "ہولی سال میں ایک بار آتی ہے جبکہ جمعہ 52 بار ہوتا ہے۔ ایسے میں جن کو رنگوں سے دقت ہے، وہ گھر میں رہیں”۔ ان کے اس بیان نے بھی ہولی کے تہوار کو لے کر بحث کو طول دیا ہے۔
وزیر نے ہولی میں مداخلت کرنے والوں کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے
رگھو راج سنگھ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "ہولی میں رخنہ ڈالنے والوں کے لیے تین جگہ ہیں: جیل، ریاست چھوڑ دیں یا یمراج کے پاس اپنا نام لکھوا دیں”۔ یہ بیان کچھ لوگوں کے لیے سختی کا مظہر جبکہ دوسروں کے لیے ایک مشورہ محسوس ہوا ہے کہ وہ تہوار کے دوران بہتر رویہ اپنائیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مندر کی حمایت
اسی دوران رگھو راج نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مندر بنانے کے مطالبے کی بھی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ "اے ایم یو میں مندر بننا چاہئے، اور اس کے لیے ہمیں اکثریت کا احترام کرنا چاہئے”۔ اس بیان نے بھی مزید بحث کو جنم دیا ہے کہ مذہبی مقامات کی تعمیر میں سیاست کا کیا کردار ہونا چاہیے۔
ہولی اور رمضان کی ہم آہنگی
قابل ذکر ہے کہ اس بار ہولی اور رمضان کا دوسرا جمعہ ایک ہی دن یعنی 8 مارچ 2023 کو آیا ہے۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے، یہ بات اہم ہے کہ دونوں تہواروں کے درمیان ہم آہنگی اور امن برقرار رکھا جائے۔
وزیر نے دیانتداری کے ساتھ مذہبی تہواروں کی اہمیت کا احاطہ کیا
وزیر گلابو دیوی نے بھی سنبھل کے سی او کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ "ہر مذہب کے تہوار کو پُرامن طریقے سے منانا چاہیے، اور اس میں فرقہ پرستی کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے”۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی حکومت ہمیشہ یہی چاہتی ہے کہ تمام تہوار کے دوران خیرسگالی اور محبت کا جذبہ ہو۔
عوامی ردعمل اور بحث
ان بیانات کے بعد مختلف سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے اپنے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے عدم برداشت کی علامت سمجھا ہے جبکہ دیگر نے اسے ایک ذمہ دارانہ مشورہ قرار دیا ہے۔ اس دوران مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے اور لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔
رگھو راج سنگھ اور دیگر وزراء کے بیانات کے بعد، یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کیا ہولی کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لئے کچھ خاص اقدامات کئے جائیں گے یا نہیں۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔
