#### امیر افراد کی تعداد میں زبردست اضافہ: کیا ہے اس کا راز؟
ہندوستان میں امیروں کی تعداد میں حالیہ برسوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ عالمی رئیل اسٹیٹ کنسلٹنگ کمپنی نائٹ فرینک کی طرف سے جاری کردہ ‘دی ویلتھ رپورٹ-2025’ کے مطابق، ملک میں ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ کی جائیداد رکھنے والے افراد کی تعداد 85698 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 فیصد کا اضافہ ہے۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان اب چین اور امریکہ کے بعد ارب پتیوں کی تعداد میں تیسرے نمبر پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ہائی نیٹ ورتھ افراد (HNWIs) کی تعداد 2024 میں 85698 متوقع ہے، جو کہ 2023 میں 80686 تھی۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو 2028 تک ان کی تعداد 93753 تک پہنچنے کی امید ہے۔ یہ اعداد و شمار ہندوستان میں بڑھتی ہوئی معیشت اور ملک کی معاشرتی ترقی کی عکاسی کرتی ہیں۔
#### ارب پتیوں کی تعداد میں اضافہ: کیوں اور کیسے؟
ہندوستان میں ارب پتیوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ رواں سال ملک میں 191 ارب پتی موجود ہیں، جن میں سے 26 پچھلے سال ہی اس زمرے میں شامل ہوئے۔ 2019 میں یہ تعداد صرف 7 تھی، یعنی 5 سالوں میں اس میں 27 گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس حیران کن ترقی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔
نائٹ فرینک کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں معیشت کی مضبوطی، عالمی تجارت میں شمولیت، اور نئی ابھرتی ہوئی صنعتوں نے اس مسئلے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ششیر بیجل، جو نائٹ فرینک آف انڈیا کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ بھارت کے ہائی نیٹ ورتھ طبقے میں مزید اضافہ متوقع ہے، جیسا کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی ترجیحات میں بھی تبدیلی کر رہے ہیں۔
#### مستقبل کی پیشگوئیاں: کیا آنے والا وقت بھی ایسا ہی ہوگا؟
ہندوستان میں بڑھتی ہوئی جائیدادیں اس کی اقتصادی طاقت اور طویل مدتی ترقی کی صلاحیت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ششیر بیجل نے کہا کہ آنے والی دہائی میں عالمی جائیداد کی ترقی میں ہندوستان کا اثر اور بھی بڑھنے کی امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائی نیٹ ورتھ والے افراد رئیل اسٹیٹ، عالمی ایکویٹی، اور مختلف دیگر سرمایہ کاری کے مواقع کی جانب بھی متوجہ ہو رہے ہیں۔
یہ نئے سرمایہ کار تیزی سے ترقی پذیر صنعتوں میں دلچسپی لے رہے ہیں، جیسے ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال، اور تعلیم۔ ان کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی میں توانائی کی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔
#### سوالات کا جواب: کیا چیلنجز بھی ہیں؟
اگرچہ امیروں کی تعداد میں یہ اضافہ خوش آئند ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی کئی چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔ جیسے کہ امیر اور غریب کے درمیان فرق، معاشرتی عدم مساوات، اور زمین کے حقوق کی حفاظت۔ ترقی کی اس دوڑ میں یہ ضروری ہے کہ حکومتی پالیسیاں ایسے بنائی جائیں کہ سب کے لئے بہتر مواقع فراہم ہوں۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

