موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کوٹا میں تعلیمی دباؤ کے باعث ایک اور خودکشی کا واقعہ، طلباء کی زندگیوں میں مایوسی کی لہر

واقعہ کی تفصیلات: کوٹا کا افسوسناک واقعہ

راجستھان کے شہر کوٹا میں ایک اور نوجوان نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا، جس نے نہ صرف اس کی فیملی بلکہ پورے تعلیمی نظام کو بھی سوالات میں مبتلا کر دیا ہے۔ 28 سالہ سنیل، جو کوٹا میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کا طالب علم تھا، نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش کیا ہے۔ یہ واقعہ مہاویر نگر کی حدود میں پیش آیا جہاں سنیل اپنے ہاسٹل کے کمرے میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔

ذرائع کے مطابق سنیل کی خودکشی کا سبب شاید تعلیمی دباؤ تھا، کیونکہ اس نے اپنے سوسائڈ نوٹ میں اپنے والدین سے معافی مانگی ہے کہ وہ ان کے خواب کو پورا نہیں کر سکا۔ سنیل گزشتہ تین سال سے کوٹا میں رہ رہا تھا اور اس کے نابالغ خوابوں کی شہادت ایک افسوسناک حقیقت بن گئی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دوستوں نے اسے پوری رات دیکھنے کے بعد اس کے کمرے کا دروازہ توڑا اور اندر کا منظر دیکھ کر ہیران رہ گئے۔

پولیس نے سنیل کی لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس موقع پر مہاویر نگر تھانہ کے اہلکار، موہن لال نے کہا ہے کہ "ہم اس معاملے کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ واضح کرنا ابھی باقی ہے کہ آیا یہ خودکشی کا اصل سبب تعلیمی دباؤ تھا یا کوئی اور وجہ۔”

نوجوانوں کی خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح: اپنے مستقبل کی تلاش میں مایوسی

حالیہ چند سالوں میں کوٹا شہر میں خودکشی کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، جو نوجوانوں کے ذہنی دباؤ کا شکار ہونے، گھر والوں کی توقعات، اور مستقبل کی عدم وضاحت کی عکاسی کرتے ہیں۔ سنیل کا واقعہ ان میں سے ایک اور افسوسناک مثال ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح نوجوان اپنی زندگی میں سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

بہت سے طلباء نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ انہیں امتحانات کی تیاری کے دوران بے تحاشا دباؤ کا سامنا کر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر بوجھل ہو جاتے ہیں۔ کوٹا جیسے شہر جہاں مختلف تعلیمی ادارے موجود ہیں، طالب علم خاص طور پر ایم بی بی ایس اور دیگر مشکل شعبوں میں داخلہ لیتے ہیں، ان کی توقعات بڑھ جاتی ہیں کہ انہیں کامیابی حاصل کرنی ہے۔

یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا تعلیمی نظام اس باہمی تعاون کو سمجھتا ہے جو کہ طلباء کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے؟ اگر یہ نظام نوجوانوں کی ضروریات کو سمجھتا تو شاید ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکتی تھی۔

نوجوانوں کی صحت کے حوالے سے اقدامات: ضرورت ہے فوری عمل کی

اس افسوسناک واقعے کے بعد، اب یہ ضروری ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلباء کے لیے کونسلنگ سیشنز فراہم کریں تاکہ وہ اپنی مشکلات کا ذکر کر سکیں اور مدد حاصل کر سکیں۔

مزید برآں، والدین کو بھی اس بات کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا کہ انہیں اپنے بچوں کے خوابوں کے بوجھ کو مؤثر طریقے سے بانٹنا ہوگا تاکہ بچے خود کو اکیلا محسوس نہ کریں۔ سنیل کی خودکشی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم صرف تعلیمی کامیابیوں میں ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کی عمومی بہبود میں بھی دلچسپی رکھیں۔

کولہو کی دوڑ میں نوجوانوں کی حالت زار کو سمجھنے کے لیے ایک اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو نئے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ اس طرح کے حساس مسائل پر توجہ دی جا سکے۔ یہ بھی اہم ہے کہ تعلیمی ادارے ذہنی صحت کے موضوعات پر آگاہی پھیلائیں تاکہ طلباء اپنی مشکل وقت میں صحیح مدد حاصل کر سکیں۔

اس افسوسناک واقعے کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے اندازوں کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔