دہلی اسمبلی کے اجلاس میں نئی رکاوٹ: عام آدمی پارٹی کے اراکین کی معطلی کی کہانی
نئی دہلی: دہلی اسمبلی کے جاری اجلاس میں ایک بار پھر ایک نیا تنازعہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی (عآپ) کے 21 اراکین اسمبلی کو اسمبلی کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اجلاس کے تیسرے دن معطل اراکین اسمبلی کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ان اراکین کو جو پہلے ہی 3 دن کے لیے معطل کیا جا چکے تھے، اسمبلی میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
کیا ہوا؟ اور کیوں؟
عآپ کے رہنما آتشی نے الزام لگایا ہے کہ یہ سب کچھ بی جے پی کی حکومت کی جانب سے جمہوری اقدار کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔ آتشی کا کہنا ہے کہ عآپ کے اراکین نے ‘جے بھیم’ کے نعرے لگائے، جس کی پاداش میں ان کو معطل کیا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا، "بی جے پی والوں نے اقتدار میں آتے ہی آمریت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ ‘جے بھیم’ کے نعرے لگانے کی وجہ سے عآپ کے اراکین کو معطل کیا گیا اور آج انہیں اسمبلی احاطے میں بھی داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ ایسا دہلی اسمبلی کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔”
کون متاثر ہوا؟
یہ معطلی عآپ کے 21 اراکین کی ہے، جب کہ ان کی پارٹی کے 22 اراکین میں سے صرف ایک امانت اللہ خان ہی معطل نہیں ہوئے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ جب اجلاس کے دوسرے دن لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کا خطاب جاری تھا، عآپ کے اراکین نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں اسپیکر نے انہیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
کب اور کہاں؟
یہ واقعہ دہلی اسمبلی میں پیش آیا جہاں اجلاس جاری ہے، اور معطلی کے بعد اراکین اسمبلی نے اسپیکر وجندر گپتا سے ملاقات کا ارادہ کیا تاکہ اس معاملے کی وضاحت حاصل کی جا سکے۔
کیسا حال ہے؟
اجلاس کے دوران، آج اسمبلی میں متعدد اہم مسائل پر بحث متوقع ہے، جن میں ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب اور دہلی کی شراب پالیسی شامل ہیں۔ اجلاس صبح 11 بجے شروع ہوگا اور اس دوران اراکین مختلف مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ دہلی کی شراب پالیسی سے متعلق سی اے جی (کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل) کی رپورٹ بھی آج بحث کا موضوع رہے گی، جو 25 فروری کو ایوان میں پیش کی گئی تھی۔
احتجاج کے آثار
عآپ کے اراکین کی معطلی کے بعد ایوان کے اندر ہنگامے کے امکانات کم ہو گئے ہیں، تاہم اسمبلی کے باہر عآپ کے کارکنوں اور رہنماؤں کے احتجاج جاری رہنے کا امکان ہے۔
بی جے پی حکومت کی جانب سے گراوت کا سامنا
اس واقعے سے یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ بی جے پی حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ عآپ کے رہنما آتشی کی جانب سے کی جانے والی تنقید کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت جمہوری قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس طرح کے اقدامات سے عآپ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ آنیوالی انتخابات میں ان کے لئے ایک خطرہ بن سکتا ہے۔
عوامی رائے
اس واقعے کے بعد، عوام کی رائے بھی مختلف ہے۔ کچھ شہری یہ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت کو اپنے مخالفین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے، جبکہ دوسرے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسمبلی میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے سختی ضروری ہے۔
عآپ کے کارکنوں کی جانب سے احتجاج اور ہنگامے کے بعد، دہلی اسمبلی کی تاریخ میں یہ ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیاست میں جمہوری حقوق کی حفاظت کس طرح کی جا رہی ہے۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

