دنیا بھر میں کرنسی مارکیٹ میں اتھل پتھل، روپے کی گراوٹ کی وجوہات
حال ہی میں عالمی سطح پر کرنسی مارکیٹ میں زبردست اتھل پتھل کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ہندوستانی کرنسی، یعنی روپیہ کی بات کریں تو یہ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ منگل کے روز، روپے کی قیمت میں 16 پیسے کی گراوٹ دیکھنے کو ملی، جس کے نتیجے میں روپیہ 86.88 روپے فی ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔ یہ سلسلہ پیر کے روز بھی جاری رہا، جب روپیہ 4 پیسے کی گراوٹ کے ساتھ 86.72 روپے پر بند ہوا تھا۔
کون اس صورتحال کا ذمہ دار ہے؟ عالمی مالیاتی مارکیٹ کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ امریکی ڈالر کی مضبوطی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بے رخی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ کہاں ہے یہ واقعہ؟ یہ سب کچھ ہندوستانی کرنسی مارکیٹ میں ہو رہا ہے، جہاں بین الاقوامی ماحول کا اثر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
کب یہ تبدیلی ہوئی؟ حالیہ دنوں میں، خاص طور پر منگل کے روز، جب روپے کی قیمت میں زبردست گراوٹ ہوئی، تب یہ معاملہ انتہائی تشویشناک ہوگیا۔ کیوں یہ گراوٹ ہورہی ہے؟ ماہرین کے مطابق، ڈالر انڈیکس میں غیر یقینی صورتحال اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی میرے ہندوستانی روپے پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
کیسے یہ صورتحال بہتر ہو سکتی ہے؟ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں استحکام آتا ہے تو روپے کی قیمت میں بہتری ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آر بی آئی (ریاستہائے متحدہ کے بینک) کی جانب سے بھی مزید اقدامات کیے جائیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں روپیہ کی قیمت میں ہونے والی گراوٹ صرف ایک عددی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے کئی اہم اقتصادی عوامل ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو یہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، کیونکہ خام تیل کی قیمتیں ہندوستان کی معیشت پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔
بیرونی سرمایہ کاری کا انخلا اور روپے کی موجودہ حالت
بھارت کی معیشت میں موجودہ وقت میں بیرونی سرمایہ کاری کا انخلا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی مارکیٹ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جس کی وجہ سے روپے پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس وقت، عالمی مالیاتی ادارے بھی اس صورتحال کے بارے میں محتاط ہیں۔ روپیہ کی قیمت میں ہونے والی گراوٹ اس کی کمزوری کی عکاسی کرتی ہے، اور یہ بات انتہائی تشویشناک ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوگا۔ اس میں بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے اثرات کا تجزیہ شامل ہونا چاہیے، تاکہ روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لئے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، اگرچہ حکومت اور مرکزی بینک کی کوششیں جاری ہیں، لیکن بیرونی سرمایہ کاری کی کمی اور ڈالر کی طاقت کے باعث فوری حل تلاش کرنا مشکل ہے۔ کیا یہ صورتحال مزید بگڑے گی؟ حقیقت یہ ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کے اتار چڑھاؤ کا اثر ہمیشہ ملکی معیشت پر پڑتا ہے، اور اس بار بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔
کیا ہے کرنسی کے اتار چڑھاؤ کا اثر؟
کرنسی کے اتار چڑھاؤ کا اثر صرف مالیاتی مارکیٹ پر ہی نہیں، بلکہ عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی پڑتا ہے۔ جب روپے کی قیمت میں کمی آتی ہے تو درآمدات مہنگی ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ سے روزمرہ کی ضروریات کی اشیاء، جیسے کہ کھانا، کپڑے، اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ، اگر خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ نہ صرف ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرے گا، بلکہ اس کا اثر عمومی مہنگائی پر بھی پڑے گا۔ اس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ حکومت کو اس چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا، تاکہ معیشت کی سمت کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس صورتحال کا حل کیا ہے؟
بیرونی سرمایہ کاری کو بحال کرنے کے لئے حکومت کو اقتصادی اصلاحات پر توجہ دینی ہوگی۔ اس میں سرمایہ کاروں کی اعتماد کی بحالی، معیشت میں شفافیت فراہم کرنا اور بین الاقوامی معاشی حالات کا بغور جائزہ لینا شامل ہے۔ آر بی آئی کو بھی اپنی مانیٹری پالیسی کو بہتر بنانے کے لئے نئے اقدامات کرنے ہوں گے۔
بہت سے ماہرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ اگر حکومت اور مرکزی بینک فوری طور پر فعال اقدامات کریں، تو روپیہ جلد ہی اپنی قیمتیں بحال کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کے پاس مختلف مالیاتی اور اقتصادی حکمت عملیوں پر عمل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
اس وقت، خصوصی طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا آنے والے دنوں میں روپے کی گراوٹ کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے یا حکومت اور مالیاتی اداروں کی مداخلت اس میں کمی لانے میں مدد کرے گی۔
بجٹ سیشن کے دوران اگر حکومت نے کسی نئے منصوبے کا اعلان کیا تو یہ بھی روپے کی قدر کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے کیے گئے فیصلے اور اقدامات اس بات کا تعین کریں گے کہ روپیے کی قیمت اگلے ہفتوں میں کیسی رہے گی۔
آخری بات یہ ہے کہ عالمی مسائل کے اثرات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی مکانی مسائل کو سمجھیں اور ان کے بارے میں سوچیں۔ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں روپے کی قدر میں بہتری کے لئے اقدامات کیے جائیں گے، اور بھارتی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

