موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی کی آبکاری پالیسی میں بڑا نقصان، سی اے جی رپورٹ نے ہنگامہ مچادیا

### دہلی اسمبلی میں سی اے جی رپورٹ کی پیشی: 2000 کروڑ کا نقصان

دہلی اسمبلی میں منگل کے روز (25 فروری) کو پیش کی جانے والی سی اے جی رپورٹ نے دہلی کی آبکاری پالیسی کی ناکامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے جس کے نتیجے میں دہلی حکومت کو 2000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، پچھلی حکومت کی کمزور پالیسی اور غیر درست عمل درآمد کی وجہ سے یہ نقصان ہوا۔ رپورٹ نے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جس کی بنا پر دہلی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

### ہنگامہ: اسمبلی میں شور شرابا

اس رپورٹ کی پیشی سے پہلے، دہلی اسمبلی میں عآپ کے اراکین نے ہنگامہ کیا جس کے باعث بی جے پی نے الزام عائد کیا کہ یہ ان کی جانب سے سی اے جی رپورٹ کی پیشی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے۔ اس ہنگامے کے نتیجے میں 11 عآپ اراکین اسمبلی کو اسمبلی سے معطل کر دیا گیا۔ دہلی اسمبلی کے اسپیکر، وجیندر گپتا نے کہا کہ پچھلی حکومت نے اس رپورٹ کو دبانے کی کوشش کی تھی تاکہ عوام کو اصل حقائق سے دور رکھا جا سکے۔

### رپورٹ کی تفصیلات: نقصان کے اہم پہلو

سی اے جی رپورٹ نے 2021-22 کی آبکاری پالیسی کے تحت ہونیوالے نقصانات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لائنسنگ میں اصولوں کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ خاص طور پر، اس میں یہ کہا گیا ہے کہ آبکاری پالیسی کے حوالے سے ماہرین کی تجویز کردہ تبدیلیوں کو نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے نظر انداز کر دیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "نان کنفرمنگ” میونسپل وارڈز میں شراب کی دکانیں کھولنے کے لئے وقت پر اجازت نہیں لی گئی، جس کی وجہ سے 941.53 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

### رپورٹ کی اہمیت: مالی صورتحال کا جائزہ

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی جانب سے پیش کی گئی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبکاری محکمہ کو اس نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ نان کنفرمنگ علاقوں سے لائسنس فیس کی شکل میں تقریباً 890.15 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ، کووڈ کی وبا کی وجہ سے لائسنس یافتہ لوگوں کو عارضی چھوٹ کے باعث 144 کروڑ روپے کا مزید نقصان ہوا۔

### اسمبلی اسپیکر کی تنقید: پچھلی حکومت کا کردار

اس رپورٹ کی پیشی کے بعد، اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے کہا کہ یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ 2017 کے بعد سے کوئی بھی سی اے جی رپورٹ اسمبلی میں پیش نہیں کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "بدقسمتی سے، پچھلی حکومت نے اس معاملے میں آئینی خلاف ورزی کی۔” ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سنجیدگی کو تسلیم کیا ہے اور اس پر نکتہ چینی کی ہے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔