سنبھل: تاریخی جامع مسجد کی رنگائی کا معاملہ
سنبھل کا تاریخی جامع مسجد ایک اہم مذہبی اور ثقافتی ورثہ ہے، جس کی رنگائی اور پتائی کا مسئلہ اس وقت زیر بحث ہے جب رمضان کی مقدس مہینہ قریب آرہا ہے۔ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی نے رمضان کے پیش نظر اس کے رنگائی کی اجازت کے لیے ضلع انتظامیہ اور وزارت آثار قدیمہ سے رابطہ کیا ہے۔ اس معاملے میں انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک متنازعہ ڈھانچہ ہے اور اس کی رنگائی کے لیے اجازت کی ضرورت ہے۔
مدعی کون ہیں، اور کام کیا ہے؟
مسجد کے امام نے کہا ہے کہ یہ تاریخی مسجد صدیوں سے رنگائی کے عمل سے گزر رہی ہے اور ماضی میں کبھی بھی وزارت آثار قدیمہ سے اجازت لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ انتظامیہ سے اجازت طلب کرنے کا مقصد رمضان کی آمد کے باعث روزہ داروں کی سہولت کو مدنظر رکھنا ہے۔ جامع مسجد کے معاملے میں ہندو فریق نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مسجد ایک قدیم مندر کی جگہ پر تعمیر ہوئی ہے، جو کہ ایک تاریخی پس منظر کو اجاگر کرتا ہے، جس کے جواب میں مسلم فریق نے ان دعووں کی تردید کی ہے۔
کیا فیصلہ کیا جا رہا ہے؟
ضلع مجسٹریٹ راجندر پینسیا نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کمیٹی کی درخواست کو وزارت آثار قدیمہ کے پاس بھیج دیا گیا ہے، کیونکہ یہ اے ایس آئی کی ملکیت ہے۔ ’’جب تک اے ایس آئی کی منظوری نہیں آتی، اس وقت تک کسی کو بھی مسجد میں کوئی ترمیم کرنے کی اجازت نہیں ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
تشویش کی علامات
یاد رہے کہ سنبھل کی اس جامع مسجد کے بارے میں ایک سال پہلے ہونے والے سروے کے دوران شدید ناخوشگوار حالات نے جنم لیا تھا۔ 24 نومبر 2024 کو ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں علاقے میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا ہوئی۔ موجودہ وقت میں اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اور متاثرہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مسجد انتظامیہ اس بات پر بھی زور دے رہی ہے کہ ماضی میں اس کی رنگائی کی کوئی شرط نہیں تھی اور وہ انتظامیہ سے اس دفعہ رمضان کی مناسبت سے خاص اجازت چاہتی ہیں۔
متعلقہ قانونی پہلوؤں پر روشنی
یہ معاملہ اب نہ صرف مذہبی بلکہ قانونی نقطہ نظر سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک بھر میں ایسے متنازعہ مقامات پر آئے دن نئے مسائل ابھرتے ہیں، جو کہ مختلف فرقوں کے درمیان مذہبی جذبات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ عدالتوں کی کوشش ہے کہ انصاف کی راہ میں رکاوٹیں نہ آئیں، مگر ایسے معاملات میں عوامی امن و امان کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
ایسے حالات میں کیا کیا جائے؟
ایسے حساس معاملات میں، جہاں مذہبی مقامات کی بنیاد پر تنازعات پیدا ہوتے ہیں، حکومت اور مذہبی اداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں۔ مذہبی رواداری اور باہمی احترام اس تناظر میں اہم ہیں۔ اسی محبت و ہم آہنگی کی بنیاد پر ہی ہم ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کر سکتے ہیں۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

