موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سونی پت کی پلاسٹک فیکٹری میں آتشزدگی، لاکھوں روپے کا نقصان اور خوفناک دھوئیں کا طوفان!

ہریانہ کے سونی پت میں فیکٹری کی آتشزدگی: کیا ہوا، کیوں ہوا اور کیسے ہوا؟

ہریانہ کے سونی پت میں پیر کی صبح ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب پیپلی کھیڑا رام نگر روڈ پر موجود ایک پلاسٹک ڈرم بنانے والی فیکٹری میں اچانک شدید آگ لگ گئی۔ یہ آتشزدگی اتنی خطرناک تھی کہ اس نے کئی کلومیٹر دور تک دھوئیں کا غبار پھیلا دیا۔ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔

اس واقعے میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا، لیکن جب فیکٹری میں آگ لگی تو وہاں کے کئی ملازمین موجود تھے۔ اس خوفناک صورت حال کے باوجود، ملازمین نے بروقت فیکٹری سے باہر نکل کر اپنی جان بچائی۔ فائر بریگیڈ کو فوری طور پر اطلاع دی گئی اور تقریباً 10 فائر ٹرک موقع پر پہنچے تاکہ آگ بجھانے کی کوشش کی جا سکے۔

آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے، فائر بریگیڈ کی ٹیم کو مزید محنت کرنا پڑی۔ تقریباً پانچ گھنٹے کی سخت جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا، لیکن تب تک فیکٹری کی حالت مکمل طور پر خراب ہو چکی تھی۔ اس حادثے کے دوران فیکٹری میں موجود تمام آلات اور مواد جل کر خاک ہو گئے، جس کے نتیجے میں لاکھوں روپے کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

آتشزدگی کی وجوہات اور متاثرہ علاقے کی حالت

آتشزدگی کی اصل وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں ہیں۔ پلاسٹک کی موجودگی کی وجہ سے آگ تیز رفتاری سے پھیلی اور خوفناک صورتحال پیدا کر دی۔ سونی پت کے مقامی لوگوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب اس علاقے میں فیکٹریاں آگ کی لپیٹ میں آئی ہوں۔ سونی پت کی صنعتی تاریخ میں کئی مرتبہ ایسی صورت حال پیش آ چکی ہے، جس کے نتیجے میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کا بھی ضیاع ہوا ہے۔

یہ حادثہ نہ صرف فیکٹری کے ملازمین کے لیے خطرہ بن گیا ہے بل کہ اس نے آس پاس کے رہائشیوں کی زندگیوں پر بھی منفی اثر ڈال دیا ہے۔ آگ کی شدت کے باعث قریبی آبادیوں میں خوف لاحق ہے اور لوگ متاثرہ علاقے سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا اقدام اور آگ بجھانے کی کارروائیاں

آگ بجھانے کے بعد، مقامی انتظامیہ نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم جائزہ لے گی کہ آگ کیسے لگی اور فیکٹری میں حفاظتی تدابیر کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ حادثہ کیوں پیش آیا۔ ایسے میں یہ جانچ بھی کی جائے گی کہ آیا فیکٹری نے تمام ضروری حفاظتی اصولوں کی پابندی کی تھی یا نہیں۔

فائر بریگیڈ کے عملے نے اپنی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور تقریباً پانچ گھنٹے کی محنت کے بعد آگ پر قابو پایا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب تک آگ پر قابو پایا گیا، تب تک فیکٹری کی تمام مشینری اور دیگر آلات خاک میں مل چکے تھے۔

مالی نقصان اور متاثرہ ملازمین کی مدد

مالی نقصان کا ابھی تک کوئی ٹھیک اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے، لیکن ابتدائی تخمینے کے مطابق یہ لاکھوں روپے میں ہو سکتا ہے۔ متاثرہ فیکٹری کے مزدوروں کی زندگیوں پر بھی اس حادثے کا بھاری اثر پڑا ہے۔ ان میں سے کئی مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں اور ان کے سامنے معاشی مشکلات کا ایک نیا دور آ گیا ہے۔

حکومت نے متاثرہ مزدوروں کی مدد کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ متاثرہ افراد کو جلد ہی مالی امداد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی زندگی کی گاڑی دوبارہ چلا سکیں۔

سونی پت کی صنعتی تاریخ اور حفاظتی تدابیر

سونی پت میں صنعتی سرگرمیاں کافی عرصے سے جاری ہیں، لیکن اس طرح کے حادثات ان کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ مقامی حکومت اور انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان فیکٹریوں میں حفاظتی تدابیر کو مزید مضبوط کریں تاکہ آنے والے وقت میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

ایسے میں عوامی آگاہی بھی ضروری ہے تاکہ لوگ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں جان سکیں اور ایسے حادثات سے بچنے کے لیے انتظامیہ پر دباؤ ڈال سکیں۔ آگ کی صورت حال میں فوری کارروائی کے لیے مقامی لوگوں کو آگاہی دینا بھی ضرورت ہے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔