نئی دہلی: دہلی کی سیاست میں ایک نئی تبدیلی آئی ہے جب وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اپنے چھ وزراء کے ساتھ پیر کے روز دہلی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں رکن اسمبلی کی حیثیت سے حلف لیا۔ اس اجلاس میں تمام نو منتخب اراکین اسمبلی نے حلف لیا، جس سے دہلی کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔
کون، کیا، کہاں، کب، کیوں، اور کیسے؟
اس حلف برداری کی تقریب میں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے ساتھ ساتھ وزیر پرویش ورما، آشیش سود، کپل مشرا، رویندر سنگھ اندرراج، پنکج کمار سنگھ، اور منجندر سنگھ سرسا نے بھی حلف لیا۔ یہ تقریب پیر کی صبح شروع ہوئی اور اس موقع پر حزب اختلاف کی رہنما آتشی سمیت عام آدمی پارٹی (عآپ) کے 22 اراکین اسمبلی نے بھی حلف لیا۔ حلف برداری کے فوراً بعد دہلی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا جس کی صدارت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی اروند سنگھ لولی نے کی، جنہوں نے دہلی اسمبلی کے پروٹیم اسپیکر کے طور پر حلف لیا۔
یہ اجلاس تین دن تک جاری رہے گا، اور اس دوران اسمبلی اسپیکر کا انتخاب دوپہر 2 بجے ہوگا۔ 25 فروری کو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ اسمبلی سے خطاب کریں گے، جس کے بعد کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی۔
ریکھا گپتا کی سیاسی حیثیت
ریکھا گپتا نے جمعرات کے روز رام لیلا میدان میں ایک شاندار تقریب میں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ اس تقریب میں شامل مہمانوں میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، اور کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ شامل تھے۔ ریکھا گپتا، جن کی سیاسی حیثیت ایک نئی نگاہ سے ابھر کر سامنے آئی ہے، دہلی کی چوتھی خاتون وزیر اعلیٰ ہیں۔ معزول وزرائے اعلیٰ شیلا دکشت اور سشما سوراج جیسے نامور رہنماؤں کی صف میں کھڑی ہو گئی ہیں۔
ریکھا گپتا کی آمد کے ساتھ ہی دہلی کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی گئی ہے، خاص طور پر بی جے پی کے لیے جو کہ دہلی میں اپنی طاقت کو دوبارہ سے مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ بننے سے قبل، ریکھا گپتا کی زندگی میں متعدد چیلنجز اور کامیابیاں شامل رہی ہیں۔
نئی حکومت کی تشکیل
یہ بات قابل ذکر ہے کہ دہلی کی اسمبلی کی یہ پہلی نشست ہے جس میں نئے اراکین نے حلف لیا ہے۔ اروند سنگھ لولی، جو کہ چار مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں، ابتدائی طور پر اس عہدے پر فائز رہیں گے جب تک کہ نئے اسپیکر کا انتخاب نہیں ہو جاتا۔ دہلی اسمبلی کا یہ اجلاس نہ صرف نئی حکومت کی تشکیل کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ اس میں عوامی مسائل کے حل کے لیے نئے فیصلے بھی کیے جائیں گے۔
پالیسی سازی اور عوامی مسائل
دہلی اسمبلی کے نئے اراکین کو عوامی مسائل کی جانب توجہ دینی ہوگی، خاص طور پر ان مسائل کی جو دہلی کی عوام کے لیے اہم ہیں۔ پانی، بجلی، صحت، تعلیم، اور دیگر بنیادی خدمات کی بہتری کے لیے حکومت کے سامنے بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ ریکھا گپتا کی قیادت میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے موثر پالیسی سازی کرے گی۔
ریکھا گپتا کا ویژن
کابینہ کے تمام وزراء کے ساتھ، ریکھا گپتا نے عوامی خدمات کی بہتری کے لیے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہماری کوشش ہوگی کہ عوامی خدمات میں بہتری لائیں اور دہلی کو ایک بہتر جگہ بنائیں۔” یہ عزم ان کے لیے ایک چیلنج بھی ہوگا، کیونکہ دہلی کی عوام کی توقعات ان سے کافی زیادہ ہیں۔
دہلی کی سیاسی فضاء
حزب اختلاف کی جماعتیں، خاص طور پر عام آدمی پارٹی، نے اس نئے حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنے کا ارادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کی صورت میں حکومت کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پیش بینی اور مستقبل کی منصوبہ بندی
دہلی کی نئی حکومت کو عوام میں مقبولیت کے حصول کے لیے جلد از جلد عوامی مسائل کے حل کے لیے منصوبے پیش کرنے ہوں گے۔ اگر ریکھا گپتا اور ان کی کابینہ عوامی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ دہلی کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

