کسانوں کے مسائل کا حل: مذاکرات کا نیا دور
چنڈی گڑھ میں مرکزی حکومت کے نمائندوں اور کسانوں کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے۔ یہ مذاکرات 22 فروری کو مہاتما گاندھی لوک ایڈمنسٹریشن انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوں گے، جہاں مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان اور مرکزی وزیر برائے صارف امور، خوراک اور عوامی تقسیم، پرہلاد جوشی کسانوں کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات کسانوں کے مطالبات، خاص طور پر کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت اور دیگر مسائل پر مرکوز ہوگی۔
سنیوکت کسان مورچہ اور کسان مزدور مورچہ کے زیر اہتمام، کسان گزشتہ سال 13 فروری سے پنجاب-ہریانہ سرحد پر دھرنا دینے میں مصروف ہیں۔ ان دھرنوں کا مقصد اپنی مطالبات کی تکمیل اور حقوق کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے، جبکہ انہیں دہلی تک مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مذاکرات کی تفصیلات
چنڈی گڑھ میں ہونے والے ان مذاکرات میں مرکزی وزرا کی قیادت میں کسانوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کی جائے گی، جس میں اہم امور پر غور کیا جائے گا۔ کسان مزدور مورچہ کے کنوینر سرون سنگھ پنڈھیر نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو 25 فروری کو ایک اور دہلی مارچ کا انعقاد کیا جائے گا۔ یہ وقت کسانوں کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
کسان رہنما، جیسے جگجیت سنگھ ڈلیوال، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومتی تجاویز پر دی گئی مثبت جواب نہ آنے کی صورت میں وہ دوبارہ طاقت کے ساتھ اپنی آواز اٹھائیں گے۔ جب کہ مرکزی وزارت زراعت کے جوائنٹ سیکریٹری پورن چندر کشور نے بھی کسان یونینوں کے ساتھ ملاقات کے لیے انہیں مدعو کیا ہے، یہ مذاکرات حقیقی معنوں میں کسانوں کے مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
گزشتہ مذاکرات کا پس منظر
چنڈی گڑھ میں 14 فروری کو بھی ایک اجلاس ہوا تھا جو کہ مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کی قیادت میں ہوا۔ اس اجلاس میں دو طرفہ مذاکرات کو خوشگوار قرار دیا گیا تھا، اگرچہ کسانوں کے مطالبات کی تکمیل کے لیے اب بھی کافی کام باقی ہے۔ یہ بات چیت کئی دیگر مسائل پر بھی ہوچکی ہے، جیسے کسانوں کے خلاف درج مقدمات کی واپسی اور 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد کے متاثرین کے لیے انصاف کی فراہمی۔
اجلاس میں مرکزی حکومت اور کسان رہنماؤں نے ایم ایس پی کی قانونی ضمانت، قرض معافی اور مزدوروں کے لیے پنشن جیسی اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ امور کسانوں کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے ان کا حل نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
کسانوں کی جدوجہد
کسانوں کی یہ جدوجہد کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گذشتہ دو سالوں سے یہ صورتحال جاری ہے جس میں کسان اپنے حقوق کے حصول کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ دھرنوں، احتجاجوں اور مذاکرات کے ذریعے وہ اپنی آواز بلند کر رہے ہیں تاکہ حکومت کو ان کے مسائل کی سنجیدگی کا احساس ہو۔
یہ ضروری ہے کہ حکومت کسانوں کی بات سنے اور ان کے مطالبات پر غور کرے، کیونکہ یہ نہ صرف کسانوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے بلکہ پورے ملک کی معیشت بھی اس پر منحصر ہے۔ اگر حکومت اور کسانوں کے درمیان بات چیت جاری رہے تو ممکن ہے کہ جلد ہی ایک خوشگوار حل نکل آئے۔
ایم ایس پی کی قانونی ضمانت: ایک اہم مطالبہ
ایم ایس پی کی قانونی ضمانت کا مطالبہ کسانوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ یہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت دلانے میں مدد فراہم کرے گا، جو کہ ان کی معیشت کا بنیادی ستون ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تو کسانوں کی خودکشیوں اور دیگر معاشی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایم ایس پی کی قانونی ضمانت کے بغیر، وہ کسی بھی طرح کی بات چیت میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہئے کہ وہ ایم ایس پی کے بارے میں واضح اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ کسان اپنی خدمات کو بہتر طور پر پیش کر سکیں اور ان کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
کسان اتحاد کی طاقت
کسانوں کی جدوجہد میں اتحاد کی طاقت بہت اہم ہے۔ مختلف کسان تنظیمیں مل کر ایک ساتھ اپنی آواز بلند کر رہی ہیں، جو کہ حکومت کو ان کے مطالبات کی طرف متوجہ کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ اگر یہ اتحاد برقرار رہتا ہے تو کسانوں کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
کسانوں کا اتحاد نہ صرف ان کے حقوق کے حصول کے لیے اہم ہے، بلکہ یہ ملک کی معیشت کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ مضبوط اتحاد کے ساتھ، کسان حکومت کے ساتھ مؤثر بات چیت کرنے میں کامیاب ہوں گے، جو کہ ان کے مستقبل اور معیشت کے لیے بہتر ہوگا۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

