موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ہاتھرس سانحے کے متاثرین نے ‘بھوکے بابا’ کو کلین چٹ ملنے پر سوال اٹھائے، انصاف کا مطالبہ

مذہبی اجتماع میں بھگدڑ کا واقعہ، متاثرین کی آہ و فغاں

اتر پردیش کے ہاتھرس میں جولائی 2024 کے دوران ایک بڑھے مذہبی اجتماع میں پیش آنے والی بھگدڑ نے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔ اس سانحے میں 121 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں سے بہت سے افراد اپنے عزیزوں کے ساتھ اس مذہبی تقریب میں شریک تھے۔ یہ واقعہ ہاتھرس کے ایک مشہور مذہبی مقام پر ہوا جہاں لوگ روحانی سکون حاصل کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اس موقع پر پیش آنے والی اس عظیم انسانی تباہی نے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے دلوں میں ایک گہرا درد چھوڑ دیا۔

اس سانحے کے بعد حکومت نے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا جس کی سربراہی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج برجیش کمار شریواستو نے کی۔ تاہم، تازہ ترین رپورٹ میں ‘بھولے بابا’ عرف سورج پال کو کلین چٹ دیے جانے پر متاثرین کی جانب سے سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس فیصلے نے متاثرین کے دلوں میں غم و غصہ کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف کے حصول کی امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔

واقعے کے گواہوں کا ماننا ہے کہ بھگدڑ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب لوگوں میں افواہیں پھل گئیں کہ باہر سے کوئی خطرہ آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ بے قابو ہو گئے۔ متاثرین نے اس بارے میں کہا کہ اس سانحے نے ان کے گھر کے چہرے کو تبدیل کر دیا ہے اور انہیں نئی زندگی کی شروعات کرنے کا موقع نہیں دیا۔

متاثرین کا درد اور انصاف کی تلاش

ونود کمار، جنہوں نے اس سانحے میں اپنی ماں، بیوی، اور بیٹی کو کھو دیا، نے اس دردناک تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا، "ہم نے اس سانحے میں اپنے پیاروں کو کھو دیا، اب ہم کر بھی کیا سکتے ہیں؟ جو ہونا تھا، وہ ہو چکا۔ ہم زیادہ پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں اور نہ ہی اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ کسی کے خلاف کچھ کر سکیں۔” ان کی یہ بات متاثرین کے دیگر اہل خانہ کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے جو اس سانحے کے بعد اپنی زندگی کی بنیادیں کھو چکے ہیں۔

اسی طرح، کرن دیوی، جنہوں نے اپنی بہو کو کھویا، نے کمیشن کی رپورٹ پر ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، "ہم نے اپنے گاؤں کے کئی لوگوں کو کھو دیا۔ بہت سی خواتین اس جلسے میں شریک ہوئی تھیں۔ ہم اس حادثے کو کبھی بھول نہیں سکتے۔” ان کا خیال ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور متاثرین کے جذبات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

مزید برآں، حادثے کے منتظمین کے وکیل مکیش چوہان نے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہوا کہ بھولے بابا کا اس حادثے میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ انہوں نے بیان دیا کہ بھگدڑ ایک افواہ کی وجہ سے مچی تھی اور اس میں شامل کچھ افراد پہلے ہی جیل میں ہیں۔ یہ بیان متاثرین کے دلوں میں مزید غم و غصہ پیدا کر رہا ہے جبکہ وہ ابھی تک اپنی کھوئی ہوئی محبت کو بھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومتی کارروائیاں اور متاثرین کے خدشات

ہاتھرس سانحے کی تحقیقات کے لیے حکومت نے ایک تین رکنی عدالتی کمیشن تشکیل دیا، جس کی قیادت ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج برجیش کمار شریواستو نے کی۔ کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ‘بابا’ کو کلین چٹ دے دی گئی ہے، جو متاثرین کے اہل خانہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔ یہ فیصلہ متاثرین کے دلوں میں یہ سوال پیدا کر رہا ہے کہ کیا ایسے سانحے کے ذمہ داروں کو اس طرح سے چھوڑا جا سکتا ہے؟

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔