موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اتراکھنڈ کا نیا اراضی قانون: باہری لوگوں کے لیے زمین خریدنے پر پابندیاں مزید سخت

اہم پیشرفت: اتراکھنڈ میں باہری افراد کے لیے زمین خریدنا اب مشکل

اتراکھنڈ کی دھامی حکومت نے باہری لوگوں کے لیے زمین خریدنے کے حوالے سے نئے قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کی وجہ سے ریاست کے باہر کے لوگوں کے لیے زمین خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس معاملے میں کابینہ نے بدھ کے روز اراضی قانون کے نئے ترمیمی ڈرافٹ کی منظوری دی، جس کے تحت ہری دوار اور اودھم سنگھ نگر کے علاوہ 11 ضلعوں میں زمین کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ریاست کے لوگوں کے طویل عرصے سے کیے جا رہے مطالبات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کابینہ کے فیصلے کے بعد کہا کہ اس قانون کے تحت ریاست کی ثقافتی ورثہ، وسائل اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے گا۔ یہ تاریخی فیصلہ ریاست کی اصل شناخت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

کیا پابندیاں ہیں؟

نئے قانون کے تحت، باہری افراد اب صرف اپنے کنبے کے لیے زنددگی میں ایک بار ڈھائی سو مربع میٹر زمین خریدنے کی اجازت ہوگی، چاہے وہ پہاڑی علاقہ ہو یا میدانی۔ خریداری کرتے وقت انہیں سب رجسٹرار کو حلف نامہ دینا ہوگا کہ ان کے کنبے نے پہلے کبھی اترا کھنڈ میں کوئی زمین نہیں خریدی۔

ماضی کی بات کریں تو، اتراکھنڈ میں ڈھیلے قانون کی وجہ سے باہری لوگ زمین خریدنے میں سرگرم رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، کماؤں منڈل کے چھ اور گڑھوال منڈل کے ایک ضلعے دہرہ دون میں پچھلے چند سالوں میں 840 معاملات میں زمین خریدنے کی اجازت دی گئی، جن میں سے صرف 570 معاملات میں زمین کا استعمال درست مقاصد کے لیے کیا گیا۔ باقی معاملات میں زمین کا غلط استعمال ہوا، جس کی وجہ سے حکومت کو یہ سخت اقدام اٹھانا پڑا۔

کیا یہ قانون واقعی موثر ہوگا؟

یہ سوال اہم ہے کہ آیا یہ نئی پابندیاں واقعی باہری لوگوں کے زمین خریدنے کے عمل کو کم کریں گی یا نہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ قانون ایک مثبت کوشش ہے لیکن اس کی کامیابی کا انحصار عملی نفاذ اور نگرانی پر ہے۔ اگر مناسب نگرانی نہیں کی گئی تو یہ قانون صرف کاغذی حد تک رہے گا۔

نتائج اور امکانات

اتراکھنڈ میں اس نئے اراضی قانون کے نتائج دور رس ہوسکتے ہیں۔ اگر یہ قانون موثر ہو گیا تو یہ ریاست کی زمینوں کی حفاظت اور ان کے درست استعمال میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہوگا بلکہ ریاست کی ثقافتی ورثہ بھی محفوظ رہے گی۔

دھامی حکومت کے اس اقدام نے ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ آیا یہ فیصلہ واقعی ریاست کی معیشت پر منفی اثر ڈالے گا یا یہ زمین کے قبل ازیں غلط استعمال کو کم کرنے کی ایک مثبت کوشش ہے۔

علاقائی سیاست اور عوامی رائے

ریاست کے عوام نے اس قانون کے بارے میں مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ اس سے ترقی کی راہیں بند ہوسکتی ہیں۔ مقامی کاروباری افراد اور زراعت کے شعبے سے وابستہ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس فیصلہ سے ان کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔

ایکسکلوژن کی نوعیت

اس قانونی تبدیلی کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ صرف باہری لوگوں کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ اس کے اثرات مقامی لوگوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ اگرچہ ریاستی حکومت کی کوشش ہے کہ مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے، مگر اس کے اثرات کا اندازہ مستقبل میں ہی لگایا جا سکے گا۔

اس کے بعد کیا ہوگا؟

نئے اراضی قانون کو قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی مزید بحث کی جائے گی۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے، تو اس کے نافذ ہونے کے بعد اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

حکومت کی ذمہ داری

حکومت کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اس قانون کی عملداری کو یقینی بنائے اور یہ دیکھے کہ زمین کے معاملات میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کی پاسداری ہو۔ اگر حکومت اس معاملے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ ریاست کی معیشت اور ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

یہ نئی پیشرفت نہ صرف اتراکھنڈ بلکہ دیگر ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کر سکتی ہے، جہاں زمین کے معاملات میں بے قاعدگیوں کا سامنا ہے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔