ہندوستان اور ایران کی مشترکہ کوششیں: نیمشا پریا کی رہائی کے لیے سفارتی جنگ
ہندوستانی نرس نیمشا پریا، جو یمن میں 2017 میں اپنے کاروباری شراکت دار کے قتل کے الزام میں قید ہیں، کی سزائے موت کو ٹالنے کے لیے ہندوستان اور ایران کی حکومتیں ایک ساتھ مل کر کوششیں کر رہی ہیں۔ یمن میں حوثی ملیشیا نے انہیں اس الزام میں سزائے موت سنائی ہے، اور اب ایرانی وزارت خارجہ اس معاملے میں مداخلت کر رہی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ وہ حوثیوں کے ساتھ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے۔
نیمشا پریا کی کہانی ایک دردناک واقعے کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ 37 سالہ کیرالہ کی رہائشی ہیں، اور ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے یمنی شراکت دار نے انہیں ظلم کا نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ اس کیس نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے، اور ہندوستانی حکومت نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اپنی سفارتی مہارت کو بروئے کار لانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔
ایران کی سفارتی مداخلت: حوثیوں کے ساتھ براہ راست بات چیت
ایس جے شنکر، جو ہندوستان کے وزیر خارجہ ہیں، نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی تاکہ یمن میں نیمشا پریا کی صورتحال پر گفتگو کی جا سکے۔ یہ ملاقات مسقط میں ہوئی، جہاں شنکر نے حوثیوں کے ساتھ اس معاملے کے حل کے لیے ایرانی حکومت کی مدد طلب کی۔ ایران کے حوثیوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس معاملے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عباس عراقچی نے یقین دلایا کہ انہوں نے حوثیوں کے نمائندے انصار اللہ سے بات کی ہے اور انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ معاملہ سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ یہ ایک اہم پیشرفت ہے، کیونکہ حوثی ملیشیا یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے اور ان کی رضا مندی کے بغیر نیمشا کی رہائی ممکن نہیں ہے۔
ایران کی حکومت نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ ایک قانونی نوعیت کا ہے، اور اس کے سیاسی پہلو نہیں ہیں۔ حسین دینور، جو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ہیں، نے کہا ہے کہ اگرچہ ہندوستان کی حکومت اپنے پیچھے ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ ایک قانونی راستہ تلاش کیا جائے تاکہ نیمشا پریا کو سزائے موت سے بچایا جا سکے۔
خاندان کی کوششیں: بلڈ منی اور بین الاقوامی مہمات
نیمشا پریا کے خاندان والے ان کی رہائی کے لیے ایک بین الاقوامی مہم چلا رہے ہیں۔ یہ مہم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ نیمشا کے اہل خانہ کی کوششیں کس حد تک اس کیس کی شدت کو کم کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ‘بلڈ منی’ یعنی دیت کی رقم اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی یمنی قانون کے تحت سزائے موت کو ٹالنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ہندوستانی وزارت خارجہ نے بھی اس معاملے میں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایران کی حمایت اس میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ ایران نے حوثیوں کے ساتھ مل کر اس کیس کو حل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں تاکہ نیمشا کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔
سفارتی چالیں: آئندہ کی حکمت عملی
یہ کیس نہ صرف نیمشا پریا کی زندگی کا سوال ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات کی پیچیدگیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ہندوستان اور ایران کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے حساس رہے ہیں، اور اس معاملے نے انہیں ایک نئی جہت میں لے جا دیا ہے۔ وزیر خارجہ جے شنکر نے اس معاملے پر ایرانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید تقویت دی جا سکے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم سب کو مل کر اس مسئلے کا سامنا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک ملک کی عزت کا بھی سوال ہے۔ یمنی حکومت کے ساتھ بات چیت میں، وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس معاملے کے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالیں اور نیمشا کی رہائی کے لیے ایک مثبت راہ نکالی جائے۔
بین الاقوامی حمایت اور میڈیا کی توجہ
یہ کیس عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ یمن میں موجود انسانی حقوق کے ادارے اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی اس معاملے میں مداخلت کر رہی ہیں اور نیمشا کی رہائی کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔ عالمی تنظیموں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ یمن میں انسانی حقوق کی پاسداری کی جائے اور سزائے موت کی سزا کو روکا جائے۔
جیسے جیسے اس معاملے پر میڈیا کی توجہ بڑھ رہی ہے، نیمشا کے اہل خانہ کے دل میں امید کی کرن بھی جاگ رہی ہے کہ انہیں جلد از جلد رہائی مل جائے گی۔ اس کے علاوہ، یمنی حکومت کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کرے۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

