بھگدڑ کا واقعہ، ریل انتظامیہ کا فوری اقدام
حال ہی میں دہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک دلخراش بھگدڑ کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب مسافروں کی بڑی تعداد اسٹیشن پر موجود تھی۔ اس حادثے کے بعد دہلی ریلوے انتظامیہ نے فوراً کارروائی کی ہے اور 26 فروری تک پلیٹ فارم ٹکٹوں کی کاؤنٹر سے فروخت بند کر دی ہے۔ اس کا مقصد بھیڑ کی شدت کو قابو میں رکھنا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات کے مطابق، دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہجوم کی وجہ سے حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ہر گھنٹہ تقریباً 1500 جنرل ٹکٹ فروخت کیے جا رہے تھے، جس کی وجہ سے اسٹیشن پر لوگوں کی تعداد بے حد بڑھ گئی تھی۔ اس کے علاوہ، ریل سیکوریٹی فورس (آر پی ایف) کی تعیناتی بھی متوازن نہیں تھی، جس نے حالات کو مزید بگاڑ دیا۔
کون، کیا، کہاں، کب، کیوں، اور کیسے؟
کون: دہلی ریلوے اسٹیشن کے مسافر اور ریلوے انتظامیہ
کیا: پلیٹ فارم ٹکٹوں کی فروخت بند
کہاں: نئی دہلی ریلوے اسٹیشن
کب: واقعہ 24 فروری کی رات پیش آیا، اور پابندی 26 فروری تک جاری رہے گی
کیوں: بھیڑ کی شدت اور گزشتہ بھگدڑ کے واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت
کیسے: ریلوے انتظامیہ نے کاؤنٹر سے پلیٹ فارم ٹکٹوں کی فروخت بند کر کے بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے نئے انتظامات متعارف کرائے ہیں۔
دہلی ریلوے اسٹیشن پر انتظامات کو مزید موثر بنانے کے لیے، آر پی ایف اور ٹرین ٹکٹ چیکر (ٹی ٹی) کو ہر انٹری پوائنٹ پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت، صرف وہ مسافر جو جنرل یا ریزرو ٹکٹ رکھتے ہیں، وہی پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
بھگدڑ کی ابتدائی رپورٹ اور کارروائیاں
کھلی آنکھوں کے سامنے پیش آنے والے اس حادثے کی ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ مسافروں کی بڑی تعداد اور ریل انتظامیہ کی ناکافی حفاظتی تدابیر نے اس واقعے کو جنم دیا۔ دہلی پولیس نے فوری طور پر اسنپکٹر رینک کے چھ افسروں کو ریلوے اسٹیشن پر تعینات کیا تاکہ ہجوم کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ افسران پہلے بھی نئی دہلی ریلوے پولیس اٹیشن میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اس حادثے کے بعد ہونے والے حفاظتی اقدامات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اطمینان بخش تعداد میں سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
ہنگامی صورتحال کے بعد کی حفاظتی تدابیر
ایسے واقعات کے بعد ریلوے انتظامیہ کو اپنی حفاظتی پالیسیوں کو ایک نئے سرے سے ترتیب دینا ہوگا۔ حالیہ حادثے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی نظام میں کئی کرنٹ نکات ہیں جن کے ازالے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، عوامی آگاہی مہمات بھی چلائی جانا چاہئیں تاکہ مسافروں کو بھیڑ کے دوران احتیاطی تدابیر اپنانے کی طرف متوجہ کیا جا سکے۔
اس واقعے کے بعد، دہلی ریلوے اسٹیشن پر جاری حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔ اس میں پولیس، ریل انتظامیہ اور مقامی حکومتیں شامل ہیں جو مشترکہ طور پر ہجوم کو کنٹرول کرنے اور حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح
ریلوے انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ مسافروں کی حفاظت ان کی پہلی ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ، عوامی تحفظ کے لیے ریلوے کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ ادارے بھی فعال رہیں گے تاکہ ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
حفاظتی تدابیر کے تحت مسافروں کے لئے آگاہی فراہم کرنا، ہنگامی صورتحال میں جواب دینے کے لیے اہلکاروں کی تربیت اور سیکیورٹی کی موجودگی میں اضافہ شامل ہیں۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

