موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کرناٹک: میسور میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار موت، علاقے میں تشویش کا ماحول

انسانی زندگی کا ایک اور غمناک باب: میسور میں چار افراد کی موت کا معمہ

کرناٹک کے میسور شہر میں پیر کے روز ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جب ایک ہی خاندان کے چار افراد اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔ یہ واقعہ شہر کے وشوشوریہ نگر کی ایک رہائشی عمارت میں وقوع پذیر ہوا، جس نے پورے علاقے میں شگاف ڈال دیا۔ پولیس نے معلومات فراہم کی ہیں کہ مرنے والوں کی شناخت چیتن (45)، ان کی اہلیہ روپالی (43)، بیٹے کُشال (15) اور چیتن کی والدہ پریمودا (62) کے طور پر ہوئی ہے۔

پولیس کے ابتدائی تحقیقات کے مطابق، چیتن کی ممکنہ حرکت یہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کو زہر دے کر خودکشی کی۔ تاہم، فی الحال موت کی اصل وجہ کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔ پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور صفائی کے دوران کسی بھی قسم کے زہر کی موجودگی کی کوئی نشانی نہیں ملی ہے۔

یہ واقعہ کہاں اور کب ہوا؟

یہ اندوہناک واقعہ میسور کے وشوشوریہ نگر میں ہوا، جہاں یہ خاندان گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے رہائش پذیر تھا۔ چیتن، جو کہ بنیادی طور پر ہاسن ضلع کے گورر گاؤں کے رہائشی تھے، دبئی میں ایک انجینئر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ 2019 میں وہ اپنے وطن لوٹے اور وہاں ایک جاب کنسلٹنسی شروع کی، جس میں گریجویٹس کو دبئی میں نوکری دلانے کا کام کیا جاتا تھا۔ اتوار کے روز چیتن نے اپنے خاندان کو گورر مندر گھمانے لے جانے کے بعد اپنے سسرال میں کھانا کھایا۔

چیتن کا فون کال: ایک مشکوک کردار؟

پولیس ذرائع کے مطابق، چیتن نے واقعے سے کچھ دیر پہلے اپنے سالے کو فون کیا تھا، جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چیتن نے اپنے حالات کا حوالہ دیا تھا۔ سالے نے میسور میں چیتن کے والدین کو وہاں کے حالات کے بارے میں آگاہ کیا۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چیتن نے اپنے گھر میں کسی قسم کے مایوسی یا پریشانی کی علامات ظاہر نہیں کی تھیں، حالانکہ پڑوسیوں نے بتایا کہ وہ ایک عام زندگی گزار رہے تھے۔

واقعے کا اثر: علاقے کی آبادی میں تشویش

اس اندوہناک واقعے کی خبر پھیلتے ہی آس پاس کے لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ملک میں ہونے والے اس نوعیت کے واقعات عام طور پر لوگوں میں بے چینی پیدا کرتے ہیں، خاص طور پر جب یہ کسی ایسے شخص کے ساتھ ہو، جو ان کے قریب رہتا ہو۔ پڑوسیوں نے چیتن اور ان کے خاندان کے بارے میں کہا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی ان کی زندگی میں کسی قسم کی تکلیف یا پریشانی محسوس نہیں کی۔

آگے کیا ہوگا؟

پولیس نے اس واقعے کی مکمل جانچ شروع کر دی ہے اور فارنسک رپورٹ اور پوسٹ مارٹم کے نتائج کا انتظار ہے تاکہ اصل وجہ معلوم ہو سکے۔ یہ ضروری ہے کہ جلد از جلد حقائق سامنے آئیں تاکہ اس خاندان کی موت کی اصل وجہ کو سمجھا جا سکے۔ اس کے علاوہ، مقامی حکومت اور پولیس نے متاثرہ خاندان کی مدد کے لیے بھی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پڑوسیوں کی گواہی: ایک متاثر کن تصویر

پڑوسیوں کی جانب سے چیتن کے خاندان کے بارے میں دی جانے والی گواہی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ خاندان ایک عام اور خوشحال زندگی گزار رہا تھا، اور ان کے لیے یہ واقعہ انتہائی دھچکا تھا۔ علاقے کے لوگوں نے اس واقعے کی تفصیلات جاننے کے لیے مختلف کوششیں کی ہیں، مگر ابھی تک کوئی واضح معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ہی، لوگوں نے اس واقعے کی وجوہات کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی ہیں، جو کہ صورتحال کو مزید مشکوک بناتی ہیں۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔