سپریم کورٹ کی مداخلت: کشی نگر میں مسجد کی توڑ پھوڑ اور انتظامیہ کی حکم عدولی کا معاملہ
اتر پردیش کے کشی نگر میں مدنی مسجد پر بلڈوزر کے ذریعہ کی جانے والی کارروائی نے ملک کی عدالت عظمیٰ، یعنی سپریم کورٹ کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ کارروائی جو حال ہی میں کی گئی، نے نہ صرف مذہبی حلقوں میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے بلکہ سپریم کورٹ نے بھی اس کے خلاف سخت نوٹس جاری کرتے ہوئے یوپی حکومت اور متعلقہ انتظامیہ کو طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے دو ہفتوں کا وقت دیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیوں یہ افسران عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
اس واقعہ میں دیکھا گیا کہ 9 فروری کو مقامی انتظامیہ نے مدنی مسجد کے ایک حصہ کو منہدم کرنے کی کارروائی کی، جس کی بنیاد پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ کارروائی قانونی تھا یا نہیں۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں انتظامیہ کے افسران، جن میں ضلع مجسٹریٹ بھی شامل ہیں، کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیوں نہ ان کے خلاف عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی بنیاد پر کارروائی کی جائے۔
کیا ہوا؟
کشنگر میں مدنی مسجد کی توڑ پھوڑ کی یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقامی انتظامیہ نے اسے ناجائز قرار دیتے ہوئے بلڈوزر چلایا۔ اس کارروائی کے دوران مقامی افراد نے شدید احتجاج کیا، جس نے مقامی سیاست میں بھی ہلچل مچا دی۔ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر الزام عائد کیا کہ وہ مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر اجئے رائے کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا سکے۔
کہاں اور کب؟
یہ واقعہ کشی نگر میں پیش آیا، جو اتر پردیش کے ایک اہم ضلع ہے، جہاں مذہبی تناؤ عموماً دیکھنے میں آتا ہے۔ 9 فروری 2023 کو، جب یہ کارروائی کی گئی، تو یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ ہنگامہ خیز کارروائی کسی خاص منصوبے کے تحت کی گئی۔ مقامی انتظامیہ کے ایگزیکٹیو انجینئر مینو سنگھ نے اس توڑ پھوڑ کا حکم دیا، جس کے بعد بلڈوزر چلائے گئے۔
کیوں؟
اس کارروائی کے پیچھے یہ حیلہ کار جمع کیا جارہا ہے کہ مدنی مسجد کا حصہ ناجائز تھا۔ تاہم، اپوزیشن جماعتیں اس بات کو سرے سے ہی مسترد کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ کارروائی صرف اور صرف مذہبی شناخت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی مذہبی رہنما اور کئی سیاسی رہنما اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت کو اس اقدام کی وضاحت کرنی چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو مذہبی آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔
کیسے؟
سپریم کورٹ نے انتظامیہ کی طرف سے کی جانے والی اس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ جسٹس بی آر گوئی کی بنچ نے واضح طور پر کہا کہ اگر کوئی افسر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے اس سلسلے میں حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کی پاسداری کرے اور آئندہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے پہلے عدالت کی اجازت حاصل کرے۔
کیا کہتے ہیں قانونی ماہرین؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ اقدام ایک اہم پیغام دے رہا ہے کہ عدلیہ کسی بھی حکومت یا انتظامیہ کی غیر قانونی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گی۔ یہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک سبق ہے کہ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے اور کسی بھی بے بنیاد اقدام کے خلاف عدالت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
مسلم کمیونٹی کی رائے
مسلم کمیونٹی کی طرف سے اس کارروائی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ مذہبی رہنما اور سماجی کارکن اس کو ایک منظم حملہ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی شکریہ ادا کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور اسے جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ نہ صرف ایک عدالتی معاملہ ہے بلکہ اس کے ذریعے معاشرتی تانے بانے کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ حکومت کو اس بات کا احساس کرنا ہوگا کہ ہر شہری کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے، چاہے وہ مذہبی اعتبار سے کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

