موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

تلنگانہ کا گاؤں مچھریلا: 500 افراد کی آنکھوں کا عطیہ کرنے کا اعزاز

تلنگانہ کے مچھریلا گاؤں نے آنکھوں کا عطیہ دے کر ایک نئی مثال قائم کی

آج کل کی دنیا میں جہاں لوگ خودغرض ہوتے جا رہے ہیں، تلنگانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں مچھریلا نے اپنی پوری آبادی کے ساتھ آنکھوں کا عطیہ کرنے کا حلف اٹھا کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ اس گاؤں کے 500 افراد نے اپنی آنکھوں کو بعد از مرگ عطیہ کرنے کی عہد کیا ہے، جو کہ انسانی مدد کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ یہ واقعہ صوبہ تلنگانہ کے ہنومان کونڈا ضلع میں پیش آیا ہے، جہاں گاؤں والوں نے اپنی زندگی کی ضمانت دیتے ہوئے ایک دوسرے کی زندگی چننے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہی نہیں، بلکہ اس نیک اقدام کے باعث گاؤں کو حال ہی میں ‘ایکسلنس اِن آئی ڈونیشن’ ایوارڈ بھی دیا گیا ہے، جس نے اس گاؤں کو قومی اور بین الاقوامی سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ خبر اس وقت کی ہے جب ملک بھر میں آنکھوں کے عطیہ کی مہم کو زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں، اور کیسے؟

60 سالہ منڈالا رویندر گاؤں کے مقامی افراد میں سے ایک ہیں، جو آبپاشی محکمہ کے ڈویژنل انجینئر ہیں۔ انہوں نے اس مہم کا آغاز کیا جب انہوں نے اپنی ماں کی آنکھیں عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جیسے ہی دوسرے گاؤں والوں نے اس عزم کا علم کیا، وہ بھی ان کے ساتھ ہو گئے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، رویندر نے کہا کہ "میرا ماننا ہے کہ موت کے بعد اعضا خراب نہیں ہونے چاہئیں”۔ انہوں نے اپنے والد کے اعضا بھی عطیہ کیے اور خود بھی آنکھوں کا عطیہ کرنے کا حلف لیا۔

یہ پختہ ارادہ جب گاؤں بھر کے لوگوں کے سامنے آیا تو سب نے متفق ہو کر اس کا حصہ بننے کا عزم کیا۔ گاؤں میں ہر گھر میں جب کسی کی موت ہوتی ہے تو اہل خانہ رویندر کو آگاہ کرتے ہیں، اور وہ ڈاکٹر سے رابطہ کر کے ضروری اقدامات کرتے ہیں۔ اس طرح کا عملی اقدام ایک مثبت تبدیلی کے ساتھ ساتھ گاؤں کی یکجہتی کو بھی بڑھا رہا ہے۔

ایک مہم سے بڑھ کر ایک تحریک کی شکل

مچھریلا گاؤں میں آنکھوں کے عطیہ کی یہ مہم کئی سال قبل شروع ہوئی تھی۔ ایک چھوٹے سے عزم کے ساتھ شروع ہونے والی یہ تحریک اب ایک بڑی مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس گاؤں کی مہم نے قریبی دوسرے گاؤں میں بھی اثر ڈالا ہے۔ ایل وی پرساد آئی انسٹی چیوٹ میں 20 افراد نے آنکھوں کا عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جس کی وجہ سے میڈیکل پروفیشنلز مسلسل اس گاؤں میں پہنچ رہے ہیں تاکہ مزید لوگوں کو اس نیک کام کے لیے بیدار کیا جا سکے۔

مچھریلا میں آنکھوں کے عطیہ کا ایک منظم نظام بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس میں آنکھوں کا عطیہ کرنے والے افراد کی مکمل تفصیلات رکھی گئی ہیں، اور ہنومان کونڈا ضلع کے اسپتالوں کے ساتھ بھی رابطہ قائم کیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔

مچھریلا کی مثال: دیگر گاؤں کے لیے راہنمائی

مچھریلا میں موجود سجاتا بی نامی خاتون نے بھی اپنی والدہ کی آنکھیں عطیہ کی ہیں اور اس پر انہیں بے حد فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے طبقے نے آنکھوں کے عطیہ کا ایک ماڈل بنانے کا حلف لیا ہے”۔ یہ نیک عمل نہ صرف گاؤں کے افراد کی زندگیوں میں تبدیلی لا رہا ہے بلکہ انہیں یہ احساس بھی دلا رہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی زندگی دیتے ہیں۔

یہ پختہ عزم اور کمیونٹی کی طاقت نہ صرف مچھریلا کے لوگوں کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔ اس مثال کے پیچھے نہایت سادہ سا پیغام ہے: "زندگی دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی آنکھیں دوسروں کے لیے عطیہ کریں”۔

دیگر گاؤں کے لیے راہنمائی

اس عظیم کامیابی کے بعد، دیگر گاؤں کے لوگوں نے بھی آنکھوں کے عطیہ کی شروعات کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ جیسے ہی یہ خبر پھیلی، کئی لوگ اس نیک مہم میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن یہ ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

مچھریلا گاؤں کے اس اقدام کو دیکھا جائے تو یہ صرف ایک گاؤں کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ انسانی ہمدردی اور کمیونٹی کی طاقت کی ایک مثال ہے۔ اس طرح کے اقدامات کو صرف تلنگانہ تک محدود نہیں رہنا چاہئے، بلکہ پورے بھارت میں اسی طرح کی تحریکات کا آغاز ہونا چاہئے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔