موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ: لالو اور تیجسوی کی شدید تنقید، وزیر ریل سے استعفیٰ کا مطالبہ

نئی دہلی – دل دہلا دینے والی حادثات کی داستان

نئی دہلی کا ریلوے اسٹیشن، جہاں حالیہ دنوں میں ایک افسوسناک بھگدڑ نے کئی جانیں لے لی ہیں، اس واقعے پر بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور سابق وزیر ریل لالو پرساد یادو نے گہرے افسوس کا اظہار کیا اور حکومت کی بدانتظامی پر تنقید کی ہے۔ اس واقعے میں ہونے والی جانی نقصان کی شدت نے نہ صرف ملک کے عوام کو سکتے میں ڈال دیا ہے بلکہ سیاسی رہنما بھی اس معاملے میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ لالو نے وزیر ریل اشونی ویشنو سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے، جسے انہوں نے ریلوے کی ناکامی قرار دیا ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہزاروں لوگ نئی دہلی اسٹیشن پر ایک مذہبی تقریب میں شریک ہونے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اس حادثے میں متعدد افراد کی جانیں گئی ہیں، جس پر حکومت کی جانب سے مناسب اقدامات کی کمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کی شدت نے بہار میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ اس واقعے کی ذمہ داری لے۔

واقعہ کی تفصیلات: کیا ہوا، کہاں ہوا، کب ہوا، کیوں ہوا؟

یہ واقعہ نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا، جہاں بھگدڑ اس وقت شروع ہوئی جب لوگوں کی بڑی تعداد ایک ساتھ اسٹیشن کے ایک حصے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ کوئی عام وقت نہیں تھا، بلکہ مذہبی تقاریب کے دوران کا وقت تھا جب لوگ اپنے عقائد کے تحت وہاں جمع ہوئے تھے۔ واقعہ کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا الیکٹرونک میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق اب تک کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

کن لوگوں نے اس واقعے میں جان کھوئی، ان کے متعلق بھی خبریں آ رہی ہیں، مگر ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ تر ہلاک شدگان کا تعلق بہار سے تھا۔ لالو پرساد یادو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس سنگین معاملے کی جانب کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ مہامکمبھ جیسے بڑے مذہبی تہوار کے دوران اس طرح کی بدانتظامی قابل افسوس ہے۔

اس حادثے کے بعد، لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، اور انہیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس معاملے میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تیجسوی یادو نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعہ حکومت کی کارکردگی کو ہدف بنایا اور کہا کہ اتنے وسائل ہونے کے باوجود یہ حادثہ ہونا حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

حکومت کی ذمہ داری: کیا اقدامات کیے جائیں گے؟

اس واقعے کے بعد، سوالات اٹھ رہے ہیں کہ حکومت اس بھگدڑ کے بعد کیا اقدامات کرے گی؟ لالو پرساد یادو نے اس کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر ریل کو اس معاملے میں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ان کے مطابق ریلوے کی بدانتظامی اور ناکامی کا خمیازہ معصوم لوگوں کو بھگتنا پڑا ہے۔ لوگوں کی جانیں بچانے کی کوشش کے بجائے حکومت اپنی تشہیر میں مصروف ہے۔

جب تک حکومت اس معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھائے گی، عوام میں بے چینی برقرار رہے گی۔ دھماکوں کی گونج، سرکاری اہلکاروں کی لاپروائی اور کمیونیکیشن کی کمی نے اس واقعے کو مزید خراب کر دیا۔

دیکھئے: آئندہ کے لائحہ عمل

حکومت کی جانب سے ایمرجنسی میٹنگ بلا کر اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اس میں کہاں کہاں کوتاہی ہوئی۔ ہارڈویئر اور سافٹ ویئر دونوں میں بہتری کی ضرورت ہے تاکہ دوبارہ ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور کو بڑھانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ اس طرح کی بدانتظامیوں کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔

سیاسی منظرنامہ: اپوزیشن کی چارجشیٹ

اپوزیشن کے رہنماوں نے اس واقعے پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس واقعے سے سبق حاصل کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ نیشنل ڈیولپمنٹ الائنس (NDA) کی حکومت پر سوالیہ نشان لگا ہے کہ وہ عوام کی حفاظت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے کیسے عہدہ برآ ہو گی۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔