امریکہ کے ٹنڈری حالات: جہاں خوابوں کو حقیقت نہیں ملتی
ہفتے کے روز، ایک اور قافلہ ہندوستانی تارکین وطن کا امریکہ سے واپس لوٹا، جو اپنے بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلے تھے۔ ان میں سے 116 افراد کو ہتھکڑیوں اور زنجیروں کے ساتھ امرتسر ہوائی اڈے پر اتارا گیا۔ یہ لوگ پنجاب، ہریانہ، گجرات، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر کی عمر 18 سے 30 سال کے درمیان ہے، اور وہ بہتر معیشت اور زندگی کی تلاش میں ملک چھوڑنے کی کوشش میں تھے۔
دلجیت سنگھ، جو اس قافلے کا حصہ تھے، بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ‘ڈنکی’ راستے کے ذریعے امریکہ جانے کا ارادہ کیا تھا، جو کہ غیر قانونی راستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کرنے کے لیے نکلے تھے، لیکن اب ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہیں اور پیروں میں زنجیریں۔
ڈپورٹیشن کا واقعہ: ایک مضحکہ خیز حقیقت
دلجیت سنگھ کی بیوی، کمل پریت کور، نے الزام لگایا کہ ان کا شوہر ٹریول ایجنٹ کی دھوکہ دہی کی وجہ سے اس المیہ کا شکار ہوئے۔ ٹریول ایجنٹ نے انہیں وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں قانونی طریقے سے امریکہ پہنچائے گا، لیکن حقیقت میں ان کی زندگی برباد کر دی۔ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں ہے بلکہ کئی نوجوانوں کی کہانی ہے جو بہتر مستقبل کے خوابوں میں گم ہو گئے۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے لیے خوشحالی کے دروازے کھول رہے ہیں، لیکن حقیقت ان کے سامنے تلخ تھی۔
کیا حکومت کی سطح پر کچھ کیا جا رہا ہے؟
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح غیر قانونی مہاجرت کے مسائل نے نہ صرف افراد بلکہ پورے خاندانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے افراد کی مدد کرے جو ان کے خوابوں کی تعبیر میں حائل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس طرح کے ڈپورٹیشن سے نہ صرف ان کی زندگیوں میں مشکلات آتی ہیں بلکہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا بھی موضوع ہے۔
یہ صرف ایک اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ یہ ان لوگوں کی کہانی ہیں جنہوں نے اپنے مستقبل کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ ان کے خوابوں کی تعبیر اب صرف ایک خواب باقی رہ گئی ہے۔
نوجوانوں کی مشکلات: ایک سنجیدہ مسئلہ
خبروں کے مطابق، 5 فروری کو پہلا قافلہ جو 104 ہندوستانی تارکین وطن پر مشتمل تھا، انہیں بھی اسی طرح سے واپس بھیجا گیا تھا۔ ان سب کا ایک ہی مقصد تھا: بہتر زندگی کا حصول۔ مگر یہ اتفاق نہیں ہے کہ ان کی کہانیاں ایک جیسی ہی ہیں۔
اس نئے قافلے کے ساتھ آنے والے افراد میں سے اکثر نے کہا کہ ان کی زندگیوں میں صرف ایک ہی جرم تھا، وہ یہ کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر امریکہ جانے کی کوشش کی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس طرح کے واقعات پر نظر رکھی ہوئی ہیں اور ان کی رہنمائی ضروری ہے تاکہ اس معاملے میں مزید رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
امریکی سرحد پر مشکلات: ایک تلخ تجربہ
یہ نوجوان اپنی خوابوں کی تعبیر کے لیے سرحد عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر جب انہیں پکڑا جاتا ہے تو یہ ایک تلخ تجربہ بن جاتا ہے۔ وہ اس امید کے ساتھ نکلے تھے کہ وہ اپنے ملک میں واپس نہیں آئیں گے، لیکن اب ان کی زندگیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ ایک کمیونٹی کی کہانی ہے جو اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے حقیقتوں کا شکار ہو گئی۔
جب دلجیت سنگھ نے اپنی کہانی بیان کی، تو ان کی آنکھوں میں وہی کرب تھا جو کئی دوسرے نوجوانوں کی آنکھوں میں دیکھا گیا۔ انہیں معلوم تھا کہ انہوں نے غلط راستہ اختیار کیا، مگر ان کا مقصد اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کا حصول تھا۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

