اکھلیش یادو کے مطالبات اور مہاکمبھ کی حقیقت
سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے حالیہ دنوں میں یوپی کی بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور انہیں مہاکمبھ میلے کے دوران دکانداروں کو ہونے والے نقصانات کی تلافی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے میں اکھلیش یادو نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے دکانداروں سے جو رقم حاصل کی تھی، وہ انہیں واپس نہیں کر رہی، حالانکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا نقصان پورا کریں۔
اکھلیش یادو کی یہ درخواست حکومت کے اقدامات کے خلاف ایک بڑا سوال بن چکی ہے۔ انہوں نے ویڈیو جاری کی ہے جس میں دکانداروں کی کہانیاں دکھائی گئی ہیں، جو میلے کے دوران غیر متوقع نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جب اہم راستوں کو بند یا تبدیل کیا گیا تو یہ دکاندار کس طرح اپنے گاہکوں تک پہنچتے اور ان کا کاروبار چلتا؟
دکانداروں کا معاشی نقصان: حکومت کی بدانتظامی کی مثال
جب اکھلیش یادو نے یہ سوالات اٹھائے، تو انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ مہاکمبھ میلے سے اربوں روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔ تو پھر چند لاکھ روپے کی واپسی اتنی مشکل کیوں ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اکھلیش یادو نے مزید اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مختلف دکانداروں کے درمیان یہ بات چیت چل رہی ہے کہ وہ سب مل کر بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اپنے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کریں گے۔ ان کا نعرہ ہے، "کہے دکاندار آج کا، نہیں چاہیے بھاجپا۔”
اکھلیش یادو نے اس تجزیے کو مزید بڑھاتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت کی انتظامات میں کئی خامیاں ہیں، جیسے پانی کی ناکافی فراہمی، صفائی کی خراب حالت اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی۔ یہ سب چیزیں دکانداروں کے نقصان کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
مہاکمبھ کی انتظامات پر سوالات
اکھلیش یادو نے مہاکمبھ کی انتظامات پر بھی سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جو دعوے کیے ہیں، ان سے حقیقت کچھ مختلف نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دکانداروں سے جو رقم وصول کی تھی، وہ انہیں واپس کرنے کی بجائے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور فوری طور پر ان دکانداروں کی مدد کرنی چاہیے جو اس میلے میں مالی نقصان اٹھا چکے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف اکھلیش یادو کے لیے ہی نہیں، بلکہ ان دکانداروں کے لیے بھی ایک اہم موضوع بن چکا ہے جو اپنی روزی روٹی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اکھلیش یادو نے اس مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے لیا ہے اور عوامی سطح پر اس کا اظہار بھی کیا ہے۔
دکانداروں کی آواز: حکومت کو سننا ہوگا
سماج وادی پارٹی کے صدر کا یہ کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کو دکانداروں کی مشکلات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اقدامات نہیں کیے تو یہ آئندہ الیکشن میں ان کے لیے ایک بڑی سیاسی مشکلات بن سکتا ہے۔ اس امر نے دکانداروں میں ایک نئی امید پیدا کی ہے کہ شاید ان کی آواز حکومت تک پہنچے گی اور ان کی مشکلات کا حل نکل سکے گا۔
اس دوران، دکانداروں نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنی مشکلات کا حل تلاش کریں گے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ حکومت کے سامنے اپنی درخواست پیش کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی آواز سنی جائے۔
اکھلیش یادو کی یہ کوشش صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے کیونکہ وہ اس بات کی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ایک بڑی تعداد میں لوگ اس میلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ یہ صرف کاروباری نقصان نہیں ہے بلکہ ان کی روزمرہ کی زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔
نتیجہ
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت اس مسئلے کو کس طرح حل کرتی ہے اور کیا دکانداروں کو نقصان کے ازالے کے لیے کوئی مدد ملتی ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اہم ہوگا کہ عوام اس مسئلے کو کیسے دیکھتے ہیں اور آئندہ انتخابات میں اسے کس طرح ہدف بناتے ہیں۔ اکھلیش یادو کی آواز اگرچہ سیاسی میدان میں بلند ہو رہی ہے، مگر یہ دکانداروں کی آواز بھی ہے جو ان کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔
ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

