زیر زمین پانی کی کیفیت: ایک خطرناک صورتحال
ہریانہ اور پنجاب کے عوام کے لیے ایک نئی رپورٹ نے سنگین خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ یہ رپورٹ، جسے سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) نے تیار کیا، میں کہا گیا ہے کہ دونوں ریاستوں کے متعدد اضلاع میں زیر زمین پانی کی حالت انتہائی خراب ہے۔ اس پانی میں یورینیم، نائٹریٹ اور آرسینک کی مقدار طے شدہ حد سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے انسانی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، پنجاب کے کم از کم 20 اور ہریانہ کے 16 اضلاع میں زیر زمین پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ یہ پانی خاص طور پر مئی 2023 میں حاصل کردہ نمونوں کی بنا پر غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ 2019 میں، یہ تعداد پنجاب میں 17 اور ہریانہ میں 18 تھی، جو کہ موجودہ صورتحال کے مقابلے میں ایک تشویش ناک اضافہ ہے۔
آلودگی کے ذرائع اور صحت پر اثرات
ذرائع کے مطابق، 30 پی پی بی سے زیادہ یورینیم کی مقدار والا پانی انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ یہ پانی کینسر، نوزائیدہ بیماریوں اور دیگر سنگین امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ ہریانہ میں 42 فیصد اور پنجاب میں 30 فیصد ایسے نمونے ملے ہیں جن میں یورینیم کی مقدار 100 پی پی بی سے زیادہ پائی گئی ہے، جو صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
پنجاب اور ہریانہ میں زیر زمین پانی میں زیادہ یورینیم کی موجودگی کے پیچھے ایک اہم وجہ زرعی زمین میں کھاد کا بے حساب استعمال ہے۔ زیادہ تر نمونے ان مقامات سے لیے گئے ہیں جہاں پانی کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے علاقے جہاں پانی کی کمی اور ضرورت سے زیادہ کھیتوں کی کاشت کی جا رہی ہے، وہ خاص طور پر متاثر ہیں۔
نائٹریٹ کی آلودگی اور اس کے اثرات
رپورٹ کے مطابق، ہریانہ میں 128 نمونوں میں نائٹریٹ کی سطح طے شدہ حد سے 45 ایم جی فی لیٹر سے زیادہ ملی ہے۔ جبکہ پنجاب میں 112 نمونے ایسے تھے جو ٹیسٹ میں ناکام ہوئے۔ یہ آلودگی نہ صرف انسانی صحت کی خطرناک علامات کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ نوزائیدہ بچوں میں بلیو بےبی سنڈروم جیسی خطرناک حالتیں بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ان بیماریوں کی شدت کی وجہ سے یہ پانی انسان کے پینے کے لائق نہیں مانا جا سکتا۔
صحت کے خدشات اور دور اندیشی
صحت پر اثرات کی شدت के ساتھ ساتھ، اس آلودہ پانی کا پینا دور اندیشی کی ضرورت بھی پیش کرتا ہے۔ اگر حکومت اس مسئلے کی جانب فوری توجہ نہیں دیتی تو یہ نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات متاثر ہو رہی ہیں، جو کہ بہت زیادہ فکر کا باعث ہیں۔
مقامی حکومتوں کی ذمہ داری
حکومت کو چاہئے کہ وہ اس آلودگی کو ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے، جس میں پانی کی صفائی کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہو۔ ریاستی اور مقامی حکومتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کو صحت مند پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
As per the report by Tribune India, جاپان کی طرح دیگر ترقی یافتہ ممالک کی تجربات سے بھی سبق لیا جا سکتا ہے تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
آخری نتائج میں، دونوں ریاستوں کے لوگوں کو اس آلودگی کے خطرات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے اور انہیں یہ بتایا جانا چاہیے کہ کس طرح وہ اپنے صحت کو خطرے میں ڈالنے سے بچ سکتے ہیں۔
حل اور آگاہی
ان حالات میں، عوام میں آگاہی پیدا کرنا اور انہیں بہتر پانی کے ذرائع کی جانب رہنمائی کرنا انتہائی ضروری ہے۔ مقامی حکومتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کو اس خطرناک صورتحال سے آگاہ کریں اور انہیں مناسب معلومات فراہم کریں تاکہ وہ خود کو اور اپنے بچوں کو محفوظ رکھ سکیں۔
ایک بہتر مستقبل کے لیے، ہمیں اس مسئلے کی جانب توجہ دینی ہوگی اور اس کے حل کے لیے کوششیں کرنی ہوں گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اور متعلقہ ادارے اس مسئلے کے حل کی جانب رفتار بڑھاتے ہیں یا نہیں۔

