ممبئی میں جی بی ایس کا پھیلاؤ، انسانی جانوں کا ضیاع
ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں جی بی ایس یعنی گلین بار سنڈروم کی ایک جان لیوا شکل سامنے آئی ہے، جس نے شہر کے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، 53 سالہ ایک مریض، جو نائر اسپتال میں داخل تھا، جی بی ایس کی وجہ سے دم توڑ دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صرف چند دن پہلے شہر میں اس بیماری کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔ جب کہ مہاراشٹر کے پونے میں پہلے ہی سات لوگ اس بیماری کی وجہ سے جان گنوا چکے ہیں۔
جی بی ایس ایک نایاب بیماری ہے جس کی علامات میں جسم کے حصوں کا اچانک سُن پڑ جانا، پٹھوں میں کمزوری، اور بعض اوقات سانس یا نگلنے میں دقت شامل ہے۔ یہ بیماری عام طور پر نوجوانوں اور مردوں میں زیادہ دیکھی گئی ہے، مگر کسی بھی عمر کے لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جی بی ایس کے سنگین کیسز میں مریض مکمل طور پر لقوہ زدہ تک ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ علاج کی کمیابی اور مریض کی حالت کی شدت ہے۔
پونے اور ممبئی میں حالات تناؤ کا شکار
حال ہی میں ہونے والے واقعات کی روشنی میں، جی بی ایس نے ممبئی اور پونے میں خطرناک حد تک پھیلاؤ حاصل کر لیا ہے۔ نائر اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس مریض کی حالت کچھ دنوں سے بگڑ رہی تھی، اور وہ وینٹی لیٹر پر تھا۔ جی بی ایس کے پہلے مریض کی شناخت 64 سالہ خاتون کی صورت میں ہوئی ہے، جو اندھیری مشرق کی رہائشی ہیں۔ یہ خاتون بخار اور پیٹ میں درد کی شکایت کے بعد اسپتال میں داخل ہوئیں، مگر ان کی حالت سنبھل نہ سکی۔
بھارتی صحت کے اداروں کی جانب سے جی بی ایس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں جی بی ایس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر صحت کے نظام میں بہتری کے لیے فوری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عوامی معلومات کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے تاکہ لوگ اس بیماری کے بارے میں آگاہ رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
جی بی ایس کی علامات اور احتیاطی تدابیر
جی بی ایس کی علامات میں بنیادی طور پر جسم کے مختلف حصوں کا بے حس ہونا، پٹھوں کی کمزوری اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ اگر آپ ان علامات کو محسوس کرتے ہیں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیئے۔ جی بی ایس کے مریضوں میں عموماً جسم کے نیچے کے حصے سے شروع ہونے والی کمزوری محسوس ہوتی ہے جو کہ پھر اوپر کے حصے میں بڑھتی ہے۔ اس بیماری کی شدت بیمار شخص کی حالت میں تیزی سے اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر فوری علاج نہ کیا جائے۔
جی بی ایس کی صورت میں خود علاج سے گریز کرنا چاہیے اور اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت محسوس ہونی چاہیے۔ تاجروں، والدین اور تمام شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صحت کے حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں۔
صحت کی ایمرجنسی اور عوامی آگاہی
جی بی ایس کے پھیلاؤ کے پیش نظر، شہریوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے متعدد پروگرامز شروع کیے گئے ہیں۔ میڈیکل کمیونٹی کی جانب سے لوگوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں اور اگر کسی بھی قسم کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ جی بی ایس کی تشخیص کے لیے فوری ٹیسٹ کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
بھارتی حکومت نے جی بی ایس کے کیسز کی تصدیق کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی خدمات کو مضبوط کرنے کی بات کی ہے۔ اس حوالے سے اسپتالوں کی جانب سے خصوصی تربیت کے بعد ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ مریضوں کی بہترین دیکھ بھال کی جا سکے۔
جی بی ایس کی تحقیق اور عالمی منظرنامہ
جی بی ایس ایک نایاب لیکن خطرناک بیماری ہے جس پر دنیا بھر میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ جی بی ایس کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے عالمی صحت کی تنظیم یعنی WHO کو بھی متوجہ کیا ہے، اور ان کی جانب سے اس مرض پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں جی بی ایس کے حوالے سے لوگ زیادہ آگاہ ہو رہے ہیں اور صحت کی حکام بھی اس مرض کی روک تھام کے لیے متحرک ہیں۔
عوامی آگاہی کی ضرورت
اس بیماری کے خطرات کی روشنی میں، ضروری ہے کہ عوام میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ لوگ جان سکیں کہ انہیں کن علامات کے حوالے سے چوکس رہنا ہے۔ جی بی ایس کے مریضوں کی جان بچانے کے لیے ابتدائی تشخیص اور علاج بہت اہم ہے۔ حالیہ واقعات نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ جی بی ایس کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔
اس طرح کے حالات میں عوام سے خصوصی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ انفیکشن کی روک تھام اور بیماری کی تشخیص میں مدد مل سکے۔ بہتر تعاون اور آگاہی کے بغیر، جی بی ایس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ جاری رہے گا، اور انسانی جانوں کا ضیاع بھی بڑھ سکتا ہے۔

