موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

انتخابی عمل کی شفافیت کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

ای وی ایم کے ڈیٹا کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم، الیکشن کمیشن کو ہدایات

سپریم کورٹ آف انڈیا نے 11 فروری کو ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کا انتخابی عمل کے بعد کوئی بھی ڈیٹا حذف نہ کیا جائے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب عدالت میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ای وی ایم کے ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی قیادت میں بنچ نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ انتخابی نتائج کے بعد ای وی ایم کا ڈیٹا کس طرح محفوظ کیا جائے گا اور اس کا انتظام کرنے کا طریقہ کیا ہے۔

ای وی ایم کا ڈیٹا، شفافیت اور عوامی اعتماد کے تحفظ کی ضرورت

ای وی ایم کا استعمال ملک کے مختلف انتخابات میں ہوتا ہے، اور اس کے استعمال کے حوالے سے عوام کے اندر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ خصوصاً انتخابی نتائج کے بعد اگر کوئی امیدوار یا جماعت ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کا خدشہ ظاہر کرے تو اس کی حقیقت جانچنا انتہائی ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی امیدوار کو یہ شبہ ہے کہ ای وی ایم میں کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے تو یہ ضروری ہے کہ اس معاملے کی جانچ کی جائے تاکہ عوامی اعتماد کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

عدالت کی جانب سے ای وی ایم کے نظام کی جانچ اور اصلاحات کی ضرورت

یہ فیصلہ اس وقت آیا جب ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) اور کانگریس کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے خلاف جی آئی ڈی کے ذریعے یہ دعویٰ کیا کہ ای وی ایم میں ممکنہ طور پر چھیڑ چھاڑ ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں عدالت نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ ای وی ایم کی میموری اور مائیکرو کنٹرولرز کی جانچ کا کیا نظام ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ ای وی ایم کی میموری کو کیسے محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ انتخابی عمل میں کسی قسم کی دھوکہ دہی کا خدشہ نہ رہے۔

اعداد و شمار کی حفاظت: آئندہ کے اقدامات کا جائزہ

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ای وی ایم کے مائیکرو کنٹرولرز کے برن کیے جانے کے عمل کی شفافیت کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان میں کسی قسم کی کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔ اس معاملے پر سماعت 3 مارچ کو دوبارہ شروع ہوگی جس میں امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے مواقف کی مزید وضاحت کی جائے گی۔

حکومت کی ذمہ داری: شفافیت کی راہ میں رکاوٹوں کا خاتمہ

حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انتخابی عمل کو شفاف بنائے اور عوام کے اعتماد کو بحال رکھے۔ ای وی ایم کا نظام عوامی آراء کا عکاس ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں عدالت کا فیصلہ ایک خوش آئند اقدام ہے جو انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔

ای وی ایم کی اہمیت اور مستقبل

ای وی ایم کا استعمال نہ صرف انتخابات کی رفتار کو تیز کرتا ہے بلکہ اس کے ذریعے انتخابی نتائج کی درستگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے استعمال میں کوئی تضاد نہ ہو۔ اگر ای وی ایم کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے تو یہ انتخابی عمل کی دھوکہ دہی کو کم کر سکتا ہے اور عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے۔

گھر کے اندر: عوامی آگاہی اور انہیں ای وی ایم کے متبادل کے بارے میں جانکاری دینا

اب وقت آگیا ہے کہ عوام کو ای وی ایم کے استعمال کے بارے میں آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے وقت مطمئن رہیں۔ عوامی پلیٹ فارم پر ای وی ایم کے بارے میں آگاہی مہمات کو شروع کرنا چاہیے تاکہ ہر شہری کو اس کی اہمیت کا احساس ہو۔