موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

ڈی ایم کے کا سنسکرت ترجمے پر اعتراض: کیا ٹیکس دہندگان کا پیسہ برباد ہو رہا ہے؟

سنسکرت کی حمایت میں تنازع

آج لوک سبھا میں ایک اہم واقعہ پیش آیا جس میں ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ دیاندھی مارن نے سنسکرت زبان میں ایوان کی کارروائی کے ترجمے پر شدید اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے اس ترجمے کو آر ایس ایس کے نظریات کی ترویج کے طور پر دیکھا اور سوال کیا کہ کیوں ٹیکس دہندگان کا پیسہ اس بات پر خرچ کیا جائے؟ دیاندھی مارن نے اپنی باتوں میں یہ بھی واضح کیا کہ یہ سنسکرت ایک متروک زبان ہے اور اس کے بولنے والوں کی تعداد محض 73 ہزار ہے، جو 2011 کی مردم شماری کے مطابق ہے۔

لوک سبھا اسپیکر کا جواب

اس واقعے پر لوک سبھا اسپیکر اوم بڑلا نے فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دیاندھی مارن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "آپ کس ملک میں رہ رہے ہیں؟” انہوں نے وضاحت کی کہ سنسکرت ہندوستان کی ایک اہم زبان ہے اور اس کے ساتھ دیگر 22 منظور شدہ زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جائے گا۔ اوم بڑلا نے مزید کہا کہ "ہم دنیا کے واحد آئینی ادارے ہیں جہاں اس طرح کی متعدد زبانوں میں ترجمہ کیا جا رہا ہے۔”

نئے زبانوں کا اضافہ

اس سے قبل لوک سبھا کے اسپیکر نے اعلان کیا تھا کہ ایوان کی کارروائی کا ترجمہ ہندی، انگریزی اور 10 علاقائی زبانوں کے ساتھ اب مزید 6 زبانوں میں کیا جائے گا، جن میں سنسکرت، بوڈو، ڈوگری، میتھلی، منی پوری اور اردو شامل ہیں۔ اس اعلان کے بعد، اسپیکر نے ایوان میں موجود نمائندوں سے سوال کیا کہ ان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ دیاندھی مارن نے مزید فتنہ انگیز سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آیا ٹیکس دہندگان کا پیسہ اس طرح کے نظریات میں برباد ہونا صحیح ہے یا نہیں۔

دیاندھی مارن کا موقف

دیاندھی مارن نے کہا کہ "ہم سرکاری ریاستی زبانوں کے ترجمے کا خیر مقدم کرتے ہیں، لیکن سنسکرت زبان کے ترجمے پر ہمیں اعتراض ہے کیونکہ یہ ایک مکالماتی زبان نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ سنسکرت کا استعمال ایک مخصوص طبقے کے لوگوں تک محدود ہے اور یہ عام عوام کے لیے نہایت غیر مفید ہے۔ یہ باتیں سن کر اسپیکر نے کہا کہ انہیں معاف کریں، لیکن انہوں نے سنسکرت کی اہمیت کو نظرانداز نہیں ہونے دیا۔

اسپیکر کا دفاعی بیان

اوم بڑلا نے دیاندھی مارن کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں سنسکرت کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، یہ ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایوان میں مختلف زبانوں کے استعمال سے زیادہ شمولیت ہوگی اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کو اپنی زبان میں معلومات حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔