غیر قانونی مہاجرین کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری
امریکہ اور برطانیہ دونوں میں غیر قانونی مہاجرین کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق، امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف شدید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر، صدر ٹرمپ کی حکومت کے انعقاد کے بعد، ہزاروں مہاجرین جن میں ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں، کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں بھی غیر قانونی طریقے سے کام کرنے والے افراد کے خلاف مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں، اور کئی افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ یہ کارروائیاں بنیادی طور پر اُن لوگوں کے خلاف ہو رہی ہیں جو غیر قانونی طور پر برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔
یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ برطانیہ میں یہ کارروائیاں کب اور کیوں کی جا رہی ہیں۔ جہاں برطانیہ کے محکمہ داخلہ نے حال ہی میں رپورٹ جاری کی ہے کہ جنوری 2023 کے آغاز سے اب تک 600 سے زائد مہاجرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں تقریباً 800 مقامات پر چھاپہ ماری کے دوران عمل میں آئیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سلسلہ مزید بڑھنے والا ہے، کیونکہ محکمہ داخلہ نے بتایا ہے کہ جولائی سے اب تک کل 3930 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں زیادہ تر افراد مختلف خدمات کے شعبے میں کام کر رہے تھے۔
گرفتار شدگان کی تعداد میں اضافہ اور حکومت کے عزائم
برطانیہ میں گرفتاریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور خاص طور پر انتخابات کے بعد یہ تعداد 16400 سے زائد ہوگئی ہے۔ اس صورتحال میں محکمہ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ آئندہ بھی یہ تعداد بڑھتی رہے گی۔ یویٹے کوپر، وزیر داخلہ، نے اس بات پر زور دیا کہ مہاجرین کے خلاف سختی سے قوانین کے نفاذ کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی کمپنیوں کے مالکان طویل عرصے سے غیر قانونی مہاجرین کو ملازمت پر رکھ کر ان کا استحصال کر رہے ہیں، اور انہیں اب روکنے کی ضرورت ہے۔
کوپر نے مزید کہا کہ ان کارروائیوں میں چیلنجز موجود ہیں، لیکن حکومت اس عزم پر قائم ہے کہ وہ غیر قانونی مہاجرین اور ان کے پیچھے کام کرنے والے کوشاں گروہوں کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ میں غیر قانونی مہاجرین کی موجودگی ایک مسئلہ بن چکی ہے، اور حکومت کی خواہش ہے کہ قانونی طور پر رہائش پزیر افراد کی تعداد بڑھائی جائے۔
کچھ اہم حقائق
یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اولین بات یہ ہے کہ غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد اکثرتاً معاشی طور پر کمزور اور کم علم افراد ہوتے ہیں، جو اپنی زندگی کے بہتر مواقع کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ اس طرح کے افراد نہ صرف اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ وہ ان ممالک کے اقتصادی نظام پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ برطانیہ میں اس نوعیت کی کارروائیاں اُن افراد کے لیے ایک پیغام ہیں جو غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ایسے افراد کو پکڑنے کے لیے حکومت کو متعدد محکموں اور ایجنسیوں کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، برطانیہ کی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ان مہاجرین کو چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے ملک بدر کرے گی، جیسا کہ حالیہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ 800 سے زائد افراد کو اس طریقے سے ملک بدر کیا جا چکا ہے۔
عالمی سطح پر مہاجرین کا مسئلہ
یہ کوئی جدید مسئلہ نہیں ہے۔ مہاجرین کا مسئلہ عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کے تحت لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ مسائل اکثر سیاسی، اقتصادی اور سوشل حالات سے منسلک ہوتے ہیں۔ عالمی برادری میں یہ موضوعات بڑی بحث و مباحثوں کا حصہ رہے ہیں، اور مختلف ممالک اپنے اپنے طریقہ کار سے ان حالات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں غیر قانونی مہاجرین کے خلاف یہ شدید اقدامات ایک طرف مہاجرین کے حقوق کی خلاف ورزی کو بڑھاتے ہیں تو دوسری جانب ان ممالک کے قوانین کے نفاذ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔

