موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

التجا مفتی کا بیان: ماں محبوبہ مفتی کی نظر بندی اور کشمیر کی موجودہ صورتحال

کشمیر میں سیاسی حالات میں تبدیلی کی عدم موجودگی

پی ڈی پی (پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی) کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی، التجا مفتی نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ماں کو کئی گھنٹوں کے لیے نظر بند کیا گیا۔ وہ یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محبوبہ مفتی، جو کہ ایک معروف سیاسی شخصیت ہیں، آرمی کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے ٹرک ڈرائیور کے اہل خانہ سے ملنے جانا چاہتی تھیں، لیکن انہیں اس عمل سے روکا گیا۔

التجا مفتی نے مزید وضاحت دی کہ انہیں اور ان کی والدہ دونوں کو، جو کہ ایک حساس سیاسی پس منظر رکھتی ہیں، اپنے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دروازے لاک کر دیے گئے اور وہ سوپور کے وسیم میر اور کٹھوعہ میں ماکھن دین کے اہل خانہ سے ملنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ لیکن انہیں گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جو کہ ایک تشویشناک واقعہ ہے۔

کشمیر کی سیاسی صورتحال کی پیچیدگیوں کو سمجھتے ہوئے، التجا مفتی نے کہا کہ حالیہ انتخابات کے بعد حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب متاثرین کے اہل خانہ کو بھی مجرم قرار دیا جا رہا ہے، جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک واضح مظہر ہے۔

انتخابات کے بعد بھی انسانی حقوق کی صورتحال

التجا مفتی نے یہ بات بھی کہی کہ حالیہ واقعات میں ماکھن دین کو اوور گراؤنڈ ورکر ہونے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ ان کے مطابق، پولیس نے ان پر شدید تشدد کیا تاکہ وہ جبراً قبول نامہ دے سکیں۔ اس ظلم کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی وفات پولیس تحویل میں ہوئی۔ یہ معاملہ Kashmir میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور عوامی عدم تحفظ کی کیفیت کو اجاگر کرتا ہے۔

البتہ، التجا مفتی نے یہ بھی کہا کہ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے اور پورے علاقے کو سیل کر دیا گیا، جو کہ اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کشمیر میں ہر لڑکا یا نوجوان جس پر شک کیا جاتا ہے، دہشت گرد ہوتا ہے؟ ان کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کر رہی ہیں اور ان انسانی حقوق کے مسائل کی جانب توجہ دلانا چاہتی ہیں۔

کشمیر میں عدم استحکام اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی

التجا مفتی نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی مقامی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کو بھی اس مسئلے پر سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی وزیر اس معاملے کو کیوں نہیں اٹھا رہا ہے۔ ان کی یہ بات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کشمیر میں سیاسی جماعتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ماضی میں، التجا مفتی نے ‘سری گفوارہ بجبہاڑہ’ سیٹ سے بھی انتخاب لڑا، لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی سیاسی جدوجہد اور بیانات اکثر سرخیوں میں رہتے ہیں، جو کہ ان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

کشمیر کی موجودہ صورت حال پر دنیا کی توجہ

عالمی سطح پر بھی کشمیر کی موجودہ صورت حال پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس علاقے میں جاری مظالم کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔

As per the report by Hindustan Times, کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے، اور عالمی برادری کو اس مسئلے کی جانب توجہ دینی چاہیے۔