موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ہلچل، کیجریوال نے اہم میٹنگ طلب کر لی

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کا ہنگامہ خیز اجلاس

نئی دہلی میں دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج سے قبل عام آدمی پارٹی (عآپ) نے اپنے تمام 70 امیدواروں کی ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے۔ یہ میٹنگ پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی صدارت میں آج صبح 11:30 بجے منعقد ہوگی۔ اس میٹنگ کو اس وقت انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے جب کہ عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی عآپ کے ممبران اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس کے لیے کچھ امیدواروں کو 15 کروڑ روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں، اور کیسے؟

معلومات کے مطابق، یہ میٹنگ دہلی میں 70 اسمبلی حلقوں کے امیدواروں کے لیے اہم ہے، اس کا مقصد پارٹی کی سٹریٹجیز کو مضبوط بنانا ہے تاکہ نتیجے کے دن سیاسی ہنر مندی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ کیجریوال نے اس میٹنگ میں مبینہ طور پر بی جے پی کی جانب سے ‘آپریشن لوٹس’ کے الزامات کے حوالے سے بات چیت کرنے کی امید کی ہے۔ آج صبح کی یہ میٹنگ اس وقت منعقد ہو رہی ہے جب ووٹوں کی گنتی میں صرف ایک دن باقی ہے۔

سنجے سنگھ کے مطابق، عآپ کے 7 امیدواروں کو 15 کروڑ روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے، اور یہ سب کچھ انتخابی نتائج کی گنتی سے پہلے ہو رہا ہے۔ اس الزامات کے تحت کیجریوال نے ایگزٹ پول پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی مختلف ایجنسیوں کی جانب سے 55 سے زیادہ سیٹیں دکھانے کے بعد بھی ان کے امیدواروں کو فون کالز موصول ہو رہے ہیں، جو کہ ایک عجیب صورتحال ہے۔

کیجریوال نے سوشل میڈیا پر لکھا، "اگر بی جے پی کو اتنی بڑی کامیابی ملنی ہے، تو پھر ہمارے امیدواروں کو بی جے پی کی جانب سے فون کالز کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟” انہوں نے ایگزٹ پول کے نتائج کو فرضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عآپ کے امیدواروں کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، الیکشن کمیشن نے ووٹوں کی گنتی کے حوالے سے سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ دہلی میں 19 مقامات پر علیحدہ اسٹورنگ رومز بنائے گئے ہیں، جہاں ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کی حفاظت کے لیے 24 گھنٹے سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ گنتی کے دن کسی بھی قسم کی گڑبڑ سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔

بی جے پی کے خلاف الزامات اور عآپ کی حکمت عملی

کیجریوال نے سنجے سنگھ کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ووٹوں کی گنتی سے پہلے ہی اپنی سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔ یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے عآپ کے 16 امیدواروں کو بھی فون کالز موصول ہو چکی ہیں۔ یہ صورت حال عآپ کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے، کیونکہ انتخابات میں اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف، الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ سخت سیکیورٹی کے اقدامات کے باوجود عآپ کے رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بی جے پی کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ عآپ کے ماضی کے تجربات اور مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، بہت سے سیاسی تجزیہ کار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عآپ کی کامیابی ممکن ہے اگر ان کے امیدوار متحد رہیں۔

سیاسی محاذ پر جاری تناؤ

اس وقت دہلی کی سیاست میں ایک عجیب ہی تناؤ کی کیفیت ہے۔ عآپ نے اپنی کوششوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ اپنے امیدواروں کو بی جے پی کے لالچ سے بچا سکے۔ اس کے علاوہ، عام آدمی پارٹی نے عوامی حمایت کے لیے بھی اپنی مہم کو تیز کیا ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ان کے امیدوار کسی بھی طرح کی دباؤ میں آ کر پارٹی کو چھوڑنے کا فیصلہ نہ کریں۔

سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی رائے کا اثر

کیجریوال نے سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی رائے کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس بارے میں آگاہ رہیں اور اپنے امیدواروں کی حمایت کریں۔ یہ انتخابی مہم کی ایک اہم حکمت عملی ہے، جس میں عوامی رائے کو متحرک کرنا شامل ہے تاکہ بی جے پی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

عآپ کی اس میٹنگ اور بی جے پی کے الزامات کے بیچ، دہلی کے عوام کی نظریں گنتی کے دن پر ہیں۔ کیا عآپ اپنے امیدواروں کو بچانے میں کامیاب رہے گی یا بی جے پی کی سازشیں کامیاب ہوں گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔

حفاظتی انتظامات اور ووٹوں کی گنتی

الیکشن کمیشن نے آج ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ ای وی ایم اور وی وی پی اے ٹی مشینوں کی حفاظت کے لیے مخصوص کمروں میں ان کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ دہلی میں 70 اسمبلی حلقوں کے لیے علیحدہ اسٹورنگ رومز بنائے گئے ہیں، جہاں انتخابات سے متعلق سیکیورٹی کے تین سطحی انتظامات کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گنتی کے دن کسی بھی قسم کی گڑبڑ سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور ای وی ایم کی حفاظت کے لیے مخصوص اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج کس طرف مڑتے ہیں

آنے والے دنوں میں، دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عآپ اور بی جے پی کی طرف سے کی جانے والی سازشوں کے درمیان، عوامی رائے اور سیکیورٹی کے انتظامات کا اثر کس طرح ہوتا ہے، یہ دیکھنے کے لیے سب کو بے چینی سے انتظار ہے۔