موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

آر بی آئی کی جانب سے شرح سود میں کمی، متوسط طبقے کے لئے ایک بڑی خوشخبری!

ہندوستانی معیشت کی نئی راہیں: آر بی آئی نے ریپو ریٹ میں 0.25 فیصد کی کمی کی

نئی دہلی: ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے آج ایک اہم اعلان کرتے ہوئے پانچ سال بعد ریپو ریٹ میں 0.25 فیصد کی کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ریپو ریٹ 6.25 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ فیصلے اس وقت لیے گئے جب گورنر سنجے ملہوترا کی قیادت میں آر بی آئی کی میٹنگ میں معیشت کی بڑھتی ہوئی مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف معاشی پیشرفت کو تیز کرنا ہے بلکہ عام لوگوں کے قرضوں کی اقساط میں کمی لانا بھی ہے۔

ماضی میں، آر بی آئی نے آخری بار مئی 2020 میں ریپو ریٹ میں کمی کی تھی، جب کہ اس کے بعد شرح کو 6.50 فیصد تک بڑھانا پڑا تھا۔ یہ نیا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آر بی آئی عالمی مالیاتی حالات کے پیش نظر اپنے مالیاتی پالیسی میں رہنمائی فراہم کرنے پر زور دے رہا ہے۔

گورنر سنجے ملہوترا کا بیان: عالمی چیلنجز اور مقامی اثرات

گورنر سنجے ملہوترا نے اس بات پر زور دیا کہ آر بی آئی کی حالیہ میٹنگ میں عالمی معیشت کی حالت اور ترقی کے راستوں پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر امریکی فیڈرل ریزرو کے ذریعہ شرح سود میں کمی کے ساتھ، جس سے عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باوجود، ہندوستان کی معیشت نے مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مالی سال 2025 کے دوران حقیقی جی ڈی پی گروتھ 6.5 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

مالی استحکام کی خاطر پالیسی میں تبدیلی

آر بی آئی نے یہ فیصلہ مالی استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے کیا ہے، تاکہ صارفین کی مالی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ گورنر نے کہا کہ ہوم لون، کار لون اور دیگر قرضوں کی ای ایم آئی میں کمی آنے کی توقع ہے، جو کہ عوام کو براہ راست مالی فائدہ پہنچائے گی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد بھارت کی معیشت میں مزید بہتری آنے کی امید ہے، خاص طور پر مینوفیکچرنگ اور مائننگ سیکٹر میں۔ دیہی علاقوں میں طلب میں اضافہ بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوامی سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

مہنگائی کی پیش گوئی: 4.7 فیصد کی ممکنہ شرح

گورنر ملہوترا کے مطابق، مالی سال 2025 میں مہنگائی کی شرح 4.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ مستقبل میں یہ شرح کم ہو۔

ایم آئی ایم آئی کی کمی سے عوامی خرچ میں اضافہ ہوگا، جس کی وجہ سے معیشت میں تحریک ملے گی۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کا اثر معیشت پر مثبت ہوگا اور مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان بھی بڑھے گا۔

عوامی فائدہ: ای ایم آئی میں کمی کی خوشخبری

ریپو ریٹ میں کمی کا سب سے بڑا فائدہ عوام کو قرضوں کی اقساط میں کمی کی صورت میں ملے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ہوم لون، کار لون اور دیگر قرضوں کی ای ایم آئی کم ہو جائے گی، جس سے لوگوں کی مالی مشکلات میں ہلکا پن آئے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خاص طور پر متوسط طبقے کے لوگوں کے لئے خوش آئند ہے، کیونکہ انہیں گھریلو مصنوعات اور سہولیات کی خریداری کے مواقع ملیں گے۔

کاروباری دنیا پر اثرات

ریپو ریٹ میں کمی کا اثر کاروباری دنیا پر بھی پڑے گا۔ قرضوں کی قیمت میں کمی کے ساتھ ساتھ کاروباری سرمایہ کاری میں نمو کی توقع ہے۔ اس سے مزید ترقی، ملازمتوں کے مواقع اور اقتصادی استحکام کے امکانات بڑھیں گے۔

آر بی آئی کی یہ پالیسی: ایک امید کی کرن

آر بی آئی کی یہ حالیہ پالیسی معیشت کے استحکام کی خاطر ایک امید کی کرن ہے۔ اس سے عوامی مالیاتی حالت میں بہتری آئے گی اور قرضوں کی اقساط میں کمی کا سبب بنے گی۔

اسی طرح کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ عالمی سطح پر مالیاتی مسائل کے باوجود، بھارتی معیشت نے اپنی مضبوطی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

عالمی مالیاتی حالات اور بھارتی روپے کا اثر

جبکہ عالمی معیشت مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، آر بی آئی کی یہ پالیسی بھارتی معیشت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ آر بی آئی کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، معیشت میں بہتری آنے کی امید ہے اور یہ صارفین کے قرضوں کی اقساط میں کمی کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے گی۔

اجمالی جائزہ

یہ فیصلہ آر بی آئی کی جانب سے ایک فیصلہ کن اقدام ہے جو نہ صرف بھارت کی معیشت بلکہ عوام کی مالی حالت کو بھی بہتر بنائے گا۔ اس کے دور رس اثرات کے ساتھ ساتھ، یہ فیصلے بھارتی معیشت کو عالمی مالیاتی حالات کے خلاف دفاع کی طاقت فراہم کریں گے۔