موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

آر جی کر میڈیکل کالج کیس: کلکتہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی اپیل منظور کی، بنگال حکومت کی درخواست مسترد

کولکاتا: عدالت کا اہم فیصلہ

کلکتہ ہائی کورٹ نے آر جی کر میڈیکل کالج میں خاتون ڈاکٹر کے ساتھ پیش آئے دلخراش ریپ اور قتل کیس کے ملزم سنجے رائے کی عمر قید کی سزا کے خلاف سی بی آئی کی اپیل کو قبول کر لیا ہے۔ عدالت نے اس اہم فیصلے میں بنگال حکومت کی جانب سے ملزم کے لیے پھانسی کی سزا کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ یہ کیس 9 اگست 2023 کو سامنے آیا، جب آر جی کر میڈیکل کالج کے سیمنار ہال سے خاتون ڈاکٹر کی لاش ملی۔

کیس کی تفصیلات

یہ واقعہ ایک سنگین جرم کی صورت میں سامنے آیا جس نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی۔ خاتون ڈاکٹر کی موت نے لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا، اور اس واقعے کی وجہ سے عوامی احتجاج بھی بڑھ گیا۔ سی بی آئی نے فوری طور پر تحقیقات شروع کیں اور مختصر وقت میں ملزم سنجے رائے کو گرفتار کیا۔ عدالت نے اکتوبر 2023 میں سنجے رائے کو ریپ اور قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی۔

سی بی آئی اور ریاستی حکومت کی اپیل

سی بی آئی اور بنگال حکومت دونوں نے اس سزا پر اعتراض کیا اور ملزم کے لیے پھانسی کی سزا کی درخواست کی۔ سی بی آئی نے اپنی اپیل میں دلیل دی کہ ملزم کے جرم کی نوعیت بہت سنگین ہے، جس کی وجہ سے قانون کے تحت اسے سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے بھی اس بات پر زور دیا کہ یہ جرم نایاب نوعیت کا ہے اور اس کے لیے پھانسی کی سزا ضروری ہے۔

کیس کے دوران، ریاستی حکومت نے عدالت میں کہا کہ ان کے پاس اس معاملے میں اپیل کرنے کا حق ہے، کیونکہ یہ جرم عوامی حفاظت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ تاہم، سی بی آئی نے اس کا چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ کیس کی تحقیقات ان کے زیر نگین تھیں، اس لیے ریاستی حکومت کو اپیل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

متاثرہ کے والدین کی درخواست

دریں اثنا، متاثرہ کی والدین نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس میں وہ کیس کی دوبارہ تحقیقات کی درخواست کر رہے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ سنجے رائے کی سزا ناکافی ہے اور وہ اس کیس کی مکمل اور جامع تحقیقات کروانا چاہتے ہیں۔ تاہم، چیف جسٹس آف انڈیا نے فوری سماعت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اس پر بعد میں فیصلہ کیا جائے گا۔

عوامی رائے اور سوشل میڈیا پر بحث

اس دلخراش واقعے نے نہ صرف متاثرہ کے خاندان کو متاثر کیا بلکہ پورے معاشرے میں بھی ایک سوال اٹھایا ہے کہ کیا قانون کی موجودہ سزائیں ان سنگین جرائم کو روکنے میں مؤثر ہیں؟ سوشل میڈیا پر بھی مختلف تبصرے دیکھنے کو مل رہے ہیں، جہاں لوگوں نے حکومت اور عدلیہ سے سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا صرف عمر قید اس طرح کے سنگین جرائم کے لیے کافی ہے؟ اس معاملے نے ملک بھر میں خواتین کی حفاظت اور ان کے حقوق کے بارے میں بحث کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔

عدالت کی کارروائی

عدالت نے سی بی آئی کی اپیل کو قبول کرتے ہوئے اس کیس کے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کو جاری رکھا۔ اس کے ساتھ ہی، بنگال حکومت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں وہ کوئی اپیل دائر کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالت نے اس کیس کے حوالے سے سیاسی دباؤ کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے قانونی پہلوؤں پر توجہ دی۔

علاقائی اور قومی سطح پر اثرات

اس کیس کے اثرات نہ صرف بنگال بلکہ پورے ملک میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مخصوص طور پر خواتین کی حفاظت اور ان کے حقوق کے حوالے سے عوامی آگاہی میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی غیر سرکاری ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس معاملے پر اپنی آواز بلند کر رہی ہیں، جبکہ عوامی سطح پر بھی اس کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔