موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

کولکاتا میں فوجی ہیڈکوارٹر کا نام تبدیل، اب ’وجئے دُرگ‘ کے طور پر جانا جائے گا

فوجی ہیڈکوارٹر کی نام تبدیلی، تاریخی اہمیت اور نئی شناخت

مغربی بنگال کے کولکاتا شہر میں واقع ہندوستانی فوج کے مشرقی کمان کے ہیڈکوارٹر کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب اسے فورٹ ولیم کے بجائے وجئے دُرگ کے نام سے جانا جائے گا۔ یہ تبدیلی فقط ہیڈکوارٹر تک ہی محدود نہیں بلکہ یہاں موجود دیگر تاریخی ڈھانچوں کے نام بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وزارت دفاع مشرقی کمان کے چیف رلیشنز افسر وِنگ کمانڈر ہمانشو تیواری نے یہ تبدیلیاں کی تصدیق کی ہیں۔

تاریخی اعتبار سے، فورٹ ولیم کا علاقہ 1757 میں سراج الدولہ کی فوج کے ہاتھوں تباہ کردہ قلعہ کے مقام پر واقع ہے۔ برطانوی حکومت نے 1758 میں ایک نئے قلعے کی تعمیر کا آغاز کیا تھا، جو بعد ازاں مکمل ہوا۔ یہ قلعہ آج بھی فوجی اہمیت کا حامل ہے اور اب اسے جدید نام کے ساتھ نئی شناخت دی گئی ہے۔

کچھ دیگر ناموں کی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ کچنر ہاؤس کا نام بدل کر مانکشا ہاؤس رکھا گیا ہے، جبکہ ساؤتھ گیٹ جسے پہلے سینٹ جارج گیٹ کہا جاتا تھا، اب شیواجی گیٹ کے نام سے جانا جائے گا۔ یہ تمام تبدیلیاں نہ صرف تاریخی مقامات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ قومی شناخت کی طرف بھی ایک قدم ہیں۔

تاریخی پس منظر اور فوجی اہمیت

فورٹ ولیم کا احاطہ 177 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا تاریخی پس منظر اسے خاص بناتا ہے۔ برطانوی حکومت نے فورٹ ولیم کی تعمیر کو مکمل کرنے میں کئی سال صرف کیے۔ 1781 میں اس کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا، جبکہ اس کی مکمل تعمیر میں تقریباً 25 سال لگے۔ اس قلعے کا ڈیزائن آکٹونل یعنی آٹھ زاویوں پر مشتمل ہے، جو اسے ایک منفرد شکل دیتا ہے۔

ماضی میں اس قلعے کی شکست کے تجربات نے انگریزوں کو مزید محتاط کیا، اور انہوں نے اس قلعے کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں کیں۔ اس قلعے کے گرد کھائی بنائی گئی تھی اور اس میں کئی دروازے رکھے گئے تھے۔ ان میں سے تین دروازے ہگلی ندی کی سمت تھے، جب کہ باقی دروازے کھلے میدان کی طرف کھلتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی، اس علاقے کو پہلے گلیسس کہا جاتا تھا، جو آجکل کولکاتا میدان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

کچنر ہاؤس، جس کا نام اب مانکشا ہاؤس رکھ دیا گیا ہے، 1771 میں بنایا گیا تھا اور اسے بعد میں برٹش انڈین فوج کے کمانڈر اِن چیف کی رہائش کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ نام فیلڈ مارشل ہوراشیو ہابرٹ کچنر کے نام پر تھا، جو 1902 سے 1910 تک یہاں رہائش پذیر رہے۔ اب یہ فیلڈ مارشل سیم مانکشا کے نام پر ہے، جنھوں نے 1971 کی ہند-پاک جنگ میں ہندوستانی فوج کی قیادت کی تھی۔

مجتمع کی رائے اور قومی شناخت کی تلاش

اس نام تبدیلی کے بارے میں معاشرتی رائے مختلف ہے۔ کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں قومی شناخت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں، جب کہ دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تاریخی ناموں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں لوگوں میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا واقعی یہ تبدیلیاں ضروری تھیں۔

کچھ ماہرین تاریخ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں ہمیں اپنے ماضی کی جانب اور زیادہ توجہ دینے کی ضرورت کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ اگرچہ یہ نام نئی شناخت فراہم کرتے ہیں، لیکن نظریاتی سطح پر ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ نام ہماری شناخت کا حصہ ہیں اور ہمیں اُن کی اہمیت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

مستقبل کی جانب ایک نظر

کچھ دنوں میں ممکنہ طور پر مزید ایسی تبدیلیوں کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔ ریاست میں دیگر تاریخی مقامات کے ناموں کی تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ایک نئی قومی شناخت پیدا کرنا ہے جو نہ صرف موجودہ نسل کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا۔