موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سیف علی خان پر چاقو سے حملہ: ملزم شریف الاسلام کی شناخت پریڈ مکمل

ممبئی میں بالی وڈ کے شائقین میں خوف اور تشویش: سیف علی خان پر حملے کی تفصیلات

بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان پر ایک المناک چاقو حملہ ہوا جس نے نہ صرف ان کے چاہنے والوں کو بلکہ پورے شوبز انڈسٹری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ 16 جنوری 2024 کو پیش آیا جب ملزم شریف الاسلام نے اداکار کے باندرہ واقع گھر میں داخل ہو کر ان پر چاقو سے حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں سیف علی خان کے جسم پر گہرے زخم آئے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس کے مطابق، یہ واقعہ رات کی تاریکی میں ہوا جب ملزم نے اچانک سیف علی خان پر حملہ کیا۔ واقعے کے بعد، فوراً ہی سینئر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ان کی سرجری کی، جس میں یہ پتہ چلا کہ چاقو کا ایک ٹکڑا ان کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب تھا، جسے کامیابی سے نکال دیا گیا۔

ملزم کی شناخت اور گرفتاری: شریف الاسلام کی کہانی

تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ملزم شریف الاسلام بنگلہ دیش کا شہری ہے اور غیر قانونی طور پر ہندوستان میں مقیم تھا۔ 19 جنوری کو پولیس نے اسے گرفتار کر لیا، جس کے بعد شناخت پریڈ آرتھر روڈ جیل میں مکمل کی گئی۔ اس میں سیف علی خان کے اسٹاف کی نرس الیامہ فلپ اور آیا جونو نے ملزم کو شناخت کرنے کے لیے مختلف قیدیوں کے درمیان قائم کی جانے والی لائن میں شرکت کی۔

شریف الاسلام کے والد نے اس کے بے قصور ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا بیٹا کسی سازش کا شکار ہے، لیکن پولیس کی تفتیش میں ملزم کے خلاف مضبوط شواہد ملے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک فرد کی زندگی کے لئے خطرہ بن گیا بلکہ شوبز انڈسٹری میں سیکیورٹی کے معاملات پر سوالات بھی اٹھا دیئے ہیں۔

سیکیورٹی کی ناقص تدابیر: شوبز انڈسٹری میں نئی بحث

سیف علی خان پر حملے کے بعد، شوبز انڈسٹری میں سیکیورٹی کی ناقص تدابیر کے بارے میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ہائی پروفائل شخصیات کی حفاظت کےلیے مزید موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ بہت سے اداکاروں اور پروڈیوسروں نے یہ بات سامنے رکھی ہے کہ انہیں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لئے سیکیورٹی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

سیف علی خان کا یہ واقعہ ان کی سیکیورٹی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر جب یہ جانکاری ملتی ہے کہ ملزم اس سے قبل بھی ان کے گھر میں کام کر چکا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر اپنی ناراضی کے سبب بدلہ لینے کے لئے یہ حملہ کیا، جس نے سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔

عوامی رد عمل: سوشل میڈیا پر ہنگامہ

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس پر کافی ہنگامہ ہوا۔ شائقین اور عام لوگوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور سیف علی خان کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔ کچھ نے سیکیورٹی کے نظام کی ناکامی پر سوالات اٹھائے اور حکومت سے اقدام اٹھانے کی درخواست کی۔ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش نے میڈیا میں بھی بڑی اہمیت اختیار کر لی، اور یہ موضوع ہر جگہ زیر بحث ہے۔

چاہنے والوں کی دعا: سیف علی خان کی صحت یابی کی امید

سیف علی خان کے چاہنے والوں نے ان کی صحت یابی کے لئے دعائیں کی ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ شائقین کا ماننا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر واپس آ جائیں گے اور اس واقعے کو صرف ایک ماضی کی یاد کے طور پر چھوڑ دیں گے۔