موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اڈانی ولمر کو جی ایس ٹی محکمہ کا بھاری جھٹکا، 42 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد

مسئلہ کیا ہے؟ اڈانی ولمر پر جی ایس ٹی کا کڑا وار

مشہور ہندوستانی بزنس مین گوتم اڈانی کی کمپنی ‘اڈانی ولمر’ کو جی ایس ٹی محکمہ کی جانب سے 42 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اتر پردیش کے جی ایس ٹی محکمہ کی جانب سے سامنے آیا ہے جب کمپنی نے اپنے شیئر بازار کو اس حوالے سے آگاہ کیا۔

جی ایس ٹی محکمہ کا کہنا ہے کہ اڈانی ولمر نے اتر پردیش جی ایس ٹی ایکٹ 2017 کے تحت ٹیکس کی ادائیگی میں غلطی کی ہے، جس کی وجہ سے یہ بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس کمپنی کو رواں سال کی 4 فروری کو موصول ہوا، جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ کمپنی کو ڈپٹی کمشنر، سینٹرل جی ایس ٹی اور سینٹرل ایکسائز ڈپارٹمنٹ، لکھنو-1 کا حکم موصول ہوا ہے۔

ہم کیوں یہ جانے؟

جی ایس ٹی محکمہ نے اس جرمانے کا باعث اڈانی ولمر کے ‘فارم ٹی آر اے این-1’ میں حاصل کیے گئے ٹرانزیشنل کریڈٹ کو قرار دیا ہے۔ اس کے مطابق، کمپنی نے جی ایس ٹی نظام میں آنے پر ایک بار میں ملے انپٹ ٹیکس کریڈٹ کی درستگی میں غلطی کی۔ اڈانی ولمر نے اس معاملے کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ مناسب اتھارٹی کے سامنے اس جرمانے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے اقدام کر رہی ہے۔

یہی نہیں، بلکہ اڈانی ولمر فارچیون برانڈ کے تحت خوردنی تیل اور کچھ دیگر خوردنی اشیا بھی پروڈیوس کرتی ہے۔ اس معاملے کے بعد بازار میں اڈانی ولمر کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

یہ معاملہ کہاں اور کب پیش آیا؟

یہ معاملہ اتر پردیش میں پیش آیا، جہاں ترقی پذیر مارکیٹ کی کہانیوں میں اڈانی گروپ کی تاثیر خود ایک مثال بنی ہے۔ جی ایس ٹی کی جانب سے عائد کردہ یہ جرمانہ اڈانی ولمر کی کاروباری سرگرمیوں پر بوجھ ڈال رہا ہے۔ جی ایس ٹی ڈپارٹمنٹ کے عملے نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ جرمانے کا اثر اڈانی ولمر کے شیئر مارکیٹ میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

جمعرات کے روز ہونے والے کاروباری سیشن میں اڈانی ولمر کا شیئر 0.64 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 269.85 روپے پر دیکھا گیا۔ اگر گزشتہ ایک ماہ کی بات کریں تو کمپنی کے شیئر نے سرمایہ کاروں کو 16.99 فیصد کا منفی ریٹرن دیا ہے، جبکہ گزشتہ 6 ماہ کی صورت حال بھی کچھ بہتر نہیں ہے جہاں کمپنی کے شیئر نے تقریباً 26 فیصد کا منفی ریٹرن دیا ہے۔

کیوں یہ معاملہ اہم ہے؟

یہ معاملہ کئی لحاظ سے اہم ہے۔ پہلا یہ کہ اڈانی گروپ کی کئی کمپنیاں مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں اور ان میں سے ایک بڑی کمپنی کی مشکلات نظام کے لحاظ سے پورے گروپ کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ اگر اڈانی ولمر اس جرمانے کے خلاف اپیل کرتی ہے، تو اس کی قانونی جنگ کا اثر دیگر کمپنیوں اور سرمایہ کاروں پر بھی ہو سکتا ہے، جو جی ایس ٹی کے قوانین کی سختیوں کے حوالے سے تشویش میں ہیں۔

جاری کی گئی معلومات کے مطابق، اڈانی ولمر کی انتظامیہ نے تجزیہ شروع کر دیا ہے اور ممکنہ قانونی چارہ جوئی کے بارے میں غور کر رہی ہے تاکہ اس جرمانے کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

اڈانی گروپ کی شفافیت پر سوالات

اس معاملے کی ابتدائی تفصیلات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اڈانی گروپ کی شفافیت اور کاروباری اخلاقیات پر سوالات اٹھیں گے۔ جی ایس ٹی کے قوانین کی سختی اور ان کی خلاف ورزی کی صورت میں عائد کردہ جرمانے نے ہندوستانی صنعت میں اڈانی گروپ کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

جی ایس ٹی محکمہ کی جانب سے عائد کردہ اس بھاری جرمانے نے مارکیٹ میں اڈانی ولمر کی ساکھ کو متاثر کیا ہے، جس کی واضح مثال اس کے شیئر کی گرانت کا نتیجہ ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا اڈانی ولمر اس معاملے کے خلاف ایک محفوظ حکمت عملی کے تحت اپنی ساکھ بحال کر سکے گی یا مارکیٹ میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پیشرفت کا امکان

یہ خبر اڈانی گروپ کے لیے ایک اور چیلنج ہے، مگر کمپنی اس وقت اپنے قانونی حقائق پر غور کر رہی ہے۔ اڈانی ولمر نے اس سلسلے میں اپیل کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کمپنی اس معاملے کو ختم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔