موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

راہل گاندھی کی قیادت میں ڈی ایم کے کا یو جی سی کے قواعد کے خلاف زبردست احتجاج

### طلبہ کا احتجاج: راہل گاندھی اور ڈی ایم کے کا اہم موقف

نئی دہلی: حال ہی میں دہلی کے جنتر منتر پر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے مجوزہ نئے قواعد کے خلاف طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں کانگریس کے سینئر رہنما اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھرپور شرکت کی۔ یہ مظاہرہ خاص طور پر اس وقت اہم ہوگیا جب راہل گاندھی نے آر ایس ایس کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور ان کی جانب سے ہندوستان کی ثقافت اور روایات کو مٹانے کی کوششوں کی مذمت کی۔

یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب یو جی سی نے یونیورسٹیز میں ہندی کی تدریس کو لازمی قرار دینے کے لیے نئے قواعد متعارف کرائے۔ راہل گاندھی نے اس موقع پر کہا کہ یہ اقدام نہ صرف تمل عوام کے لیے بلکہ دیگر ریاستوں کے ثقافتی ورثے کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر ریاست کی اپنی تاریخ، زبان اور ثقافت ہے جو ہندوستان کی شناخت کو مستحکم کرتی ہے۔

یہ مظاہرہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب مختلف ریاستوں کے طلبہ نے اس بات پر زور دیا کہ آر ایس ایس کے نظریات کو ملک پر مسلط کرنے کی کوششیں بند ہونی چاہئیں۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "آر ایس ایس سمجھتے ہیں کہ وہ دستور، ریاستوں، ثقافتوں اور تاریخوں پر حملہ کر سکتے ہیں لیکن ہم انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔”

### آر ایس ایس کے نظریات پر تنقید

راہل گاندھی نے آر ایس ایس کی پالیسیوں کو ملک کے اتحاد کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "آر ایس ایس کی کوشش ہے کہ وہ ہندوستان کے مختلف ثقافتی پہلوؤں کو یکجا کرنے کے بجائے انہیں مٹا دے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک سنگین زیادتی ہے کہ تمل عوام کی تاریخ، ثقافت اور روایات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔”

احتجاج کے دوران طلبہ نے مختلف نعرے بازی کی اور اپنی ثقافت کے تحفظ کے مطالبات کیے۔ یہ مظاہرہ دراصل تیسرے درجے کے طلبہ میں اس بات کا احساس پیدا کرنے کی کوشش ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں اور اپنی شناخت کو برقرار رکھیں۔

راہل گاندھی نے اس بات پر زور دیا کہ کانگریس پارٹی اور انڈیا اتحاد نے عہد کیا ہے کہ وہ تمام ریاستوں کی تاریخ، زبان اور روایات کو عزت دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی کا منشور پہلے ہی اس بات کا عہد کر چکا ہے کہ تعلیم کے معاملات کو ریاستی دائرہ اختیار میں واپس لایا جائے گا۔

### تمل عوام کی ثقافت کا تحفظ

یہ بات اہم ہے کہ تمل عوام کے لیے یہ قواعد صرف ایک تعلیمی معاملہ نہیں بلکہ ان کی قومی شناخت کا مسئلہ بھی ہے۔ مقامی لوگوں نے اپنی زبان اور ثقافت کو بچانے کے لیے ماضی میں بھی کئی بار احتجاج کیا ہے۔ ہندی کو لازمی قرار دینے کی کوششوں سے انہیں یہ احساس ہوا کہ ان کی ثقافتی شناخت خطرے میں ہے۔

راہل گاندھی نے واضح کیا کہ "یہ صرف تمل عوام کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام ریاستوں کا ہے جہاں آر ایس ایس اپنی نظریات کو مسلط کرنا چاہتی ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس اور انڈیا اتحاد اس بات کا عہد کریں گے کہ وہ نہ تو ثقافتی تنوع کو نظرانداز ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی ناکام نظریے کو ملک پر مسلط کرنے دیں گے۔

یہ مظاہرہ دراصل اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ عوامی سطح پر آر ایس ایس کی پالیسیوں کے خلاف ایک طاقتور مزاحمت موجود ہے۔ طلبہ اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ وہ اپنی شناخت اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

### اختتام: طلبہ کی متحد آواز

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے مختلف ریاستوں میں طلبہ کے درمیان بے چینی پیدا کی ہے۔ راہل گاندھی کے اس احتجاج میں شرکت نے اس بات کو واضح کر دیا کہ کانگریس نہ صرف سیاسی حوالے سے بلکہ ثقافتی اور تعلیمی معاملات میں بھی آہنگی کی بحالی کے لیے پُرعزم ہے۔

مظاہرین نے ایک آواز میں کہا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑیں گے اور اپنی ثقافت کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ صرف ایک تعلیمی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہماری شناخت کا مسئلہ ہے۔