نئی دہلی: امریکہ سے شہریوں کی واپسی پر الیکشن کے دوران حزب اختلاف کا شور
نئی دہلی: حالیہ بجٹ سیشن کے دوران امریکہ سے ہندوستانیوں کی واپسی کے معاملے پر حزب اختلاف نے پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ برپا کیا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی ایوانوں میں اس معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا گیا، جس کی وجہ سے کارروائی کو 12 بجے تک ملتوی کرنا پڑا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا ہے اور حکومت سے جواب طلبی کی۔
حزب اختلاف کا مطالبہ: حکومت کی جانب سے جواب کی ضرورت
حزب اختلاف کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس مسئلے پر وضاحت کرے کہ امریکہ سے ہندوستانیوں کی واپسی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لوک سبھا میں ایوان کے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ یہ معاملہ خارجی اور داخلی پالیسی سے متعلق ہے، اور اس پر حکومت سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے درخواست کی کہ وہ ایوان کی کاروائی چلنے دیں، مگر حزب اختلاف نے نعرے بازی جاری رکھی۔
ایوان کی کارروائی میں خلل، احتجاج کی شدت
اس ہنگامے کی وجہ سے اسپیکر نے لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر بھی اپوزیشن نے اسی مسئلے پر شور غوغا کیا، جس کی وجہ سے ایک بار پھر کارروائی کو معطل کر دیا گیا۔ یہ مظاہرہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اپوزیشن حکومت کی خارجہ پالیسی پر سختی سے نکتہ چینی کر رہی ہے۔
راجیہ سبھا میں بھی ہنگامہ، اپوزیشن کی جانب سے اسٹگن پروسیجر نوٹس
راجیہ سبھا میں بھی حزب اختلاف نے اسی مسئلے پر سوالات اٹھائے۔ عام آدمی پارٹی کے رکن سنجے سنگھ اور کانگریس کی رکن پارلیمنٹ رینوکا چوڑھی نے اس معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا اور اسٹگن پروسیجر نوٹس جاری کیے، مگر نائب صدر ہرون کانت نے دونوں نوٹسوں کو مسترد کر دیا۔ اپوزیشن نے پھر احتجاج شروع کر دیا، جس کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی بھی 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
حکومت کا ردعمل: امریکہ کے ساتھ مذاکرات جاری
حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم، حکومتی ذرائع کے مطابق، حکومت نے امریکہ سے ہندوستانیوں کی واپسی کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اس موضوع پر بات چیت جاری ہے۔ ہندوستانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
بجٹ سیشن کی کارروائی جاری، دیگر ایجنڈے پر بھی غور
حزب اختلاف کے احتجاج کے باوجود، حکومت نے بجٹ سیشن کی کارروائی کو آگے بڑھایا۔ آج لوک سبھا میں عام بجٹ پر بحث کا آغاز کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب پر شکرگزار تجویز پر بحث کا جواب دیں گے۔ بجٹ سیشن کے دیگر ایجنڈے بھی طے ہو چکے ہیں، جن پر آئندہ دنوں میں بحث جاری رہے گی۔
تجزیے کے مطابق، حزب اختلاف نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے
تجزیے کے مطابق، حزب اختلاف کا یہ احتجاج حکومت کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے عوام کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس معاملے میں حکومت کی ناکامی پر اپوزیشن جماعتیں مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں اور یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ آخرکار حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
امریکہ سے واپسی کا معاملہ: بین الاقوامی تعلقات پر اثرات
یہ مسئلہ صرف ہندوستان کے اندرونی معاملات تک محدود نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے اور ہندو امریکی برادری کے حقوق کی حفاظت کے لیے یہ ضروری ہے کہ حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے۔
اسرار: حکومت و اپوزیشن کے درمیان ٹکراو کی کیفیت
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کی سیاسی فضاء میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ حزب اختلاف کے احتجاج نے نہ صرف ایوان کی کارروائی کو متاثر کیا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر بحث کا آغاز کر دیا ہے کہ آیا حکومت نے اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں یا نہیں۔
امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت: آئندہ کیا ہونے والا ہے؟
حکومت کے ذرائع کے مطابق، امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اس سلسلے میں ممکنہ حل نکالنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا حکومت اس معاملے پر عوام کو خاطر خواہ جواب دے پائے گی یا نہیں۔

