حکومتی بحران کی شدت اور سیاسی ہلچل
منی پور کی بی جے پی حکومت ایک بڑے بحران کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کی قیادت میں چلنے والی حکومت کے اندرونی تنازعات نے سیاسی منظر نامے کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ اور ان کے کئی وزراء دہلی پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ممکنہ طور پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ سیاسی تبدیلیاں اور وزراء کی دہلی روانگی قومی سطح پر اس وقت اہم ہیں جب منی پور میں حالات کشیدہ ہیں۔
اس صورتحال کی عکاسی منی پور کے گورنر اجئے کمار بھلّا کے دہلی دورے سے بھی ہوتی ہے، جو ترقی میں مزید مواصلات کی کوششوں کا ایک حصہ ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ کابینہ کے 3 وزراء اور 4 اراکین اسمبلی بھی دہلی پہنچے ہیں، جو اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ کسی بڑی تبدیلی کی تیاری ہو رہی ہے۔
وزراء اور اراکین اسمبلی کی دہلی روانگی
وزیر اعلیٰ اور دیگر وزراء کی دہلی روانگی میں یقیناً کئی اہم سیاسی عوامل شامل ہیں۔ معلومات کے مطابق، 5 فروری کو 7 اراکین اسمبلی اور 4 بی جے پی عہدیدار بھی وزیر اعلیٰ کی پیروی کرتے ہوئے دہلی روانہ ہوئے۔ ان میں سے وزیر تھونگم بسوجیت سنگھ، کونتھوجم گووند داس، اور ایل سوسیندرو میتئی شامل ہیں، جو کہ دہلی میں اہم سیاسی ملاقاتوں کے سلسلے میں موجود ہیں۔
یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے رکن اسمبلی رادھے شیام اور کابینہ وزیر کھیم چند پہلے ہی دہلی میں موجود ہیں اور انہوں نے امت شاہ کے دفتر سے ملاقات کی دعوت دی ہے۔ اس ملاقات کا مقصد منی پور کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت کرنا اور اراکین اسمبلی کی شکایات کو حل کرنا ہو سکتا ہے۔
بغاوت کی افواہیں اور حکومت کی مشکلات
منی پور کی سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جب کانگریس کے کار گزار صدر دیورَت سنگھ نے دعویٰ کیا کہ بہت سے بی جے پی اراکین اسمبلی وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ کی قیادت کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ صرف افواہ نہیں ہے، بلکہ حقیقتاً ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ناراض اراکین اسمبلی اور وزراء کے ساتھ براہ راست بات چیت کر رہے ہیں تاکہ آئندہ اسمبلی اجلاس سے پہلے بی جے پی حکومت اپنی اکثریت برقرار رکھ سکے۔
سیاسی حل کی تلاش اور مستقبل کی توقعات
منی پور کی بی جے پی حکومت کے اندرونی مسائل کی جڑیں گہری ہیں، اور ایسی صورت میں جب وزیر اعلیٰ اور ان کے وزراء دہلی میں اہم ملاقاتوں میں مصروف ہیں، یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا وہ ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔ یہ صورتحال حکومت کی قیادت کی مضبوطی کو ٹیسٹ کرتی ہے، اور اگر حالات درست نہیں ہوئے تو اس کے نتائج سیاسی حیثیت پر پڑ سکتے ہیں۔ مرکزی حکومت اور بی جے پی قیادت کی کوششیں اس بات کی علامت ہیں کہ وہ حکومت کی حالیہ مشکلات کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔
حکومت کی مضبوطی کی بحالی کے لئے، ممکن ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے کچھ اہم فیصلے سامنے آئیں۔ ایسی توقع کی جارہی ہے کہ انہیں یہ سمجھانے میں دشواری پیش آسکتی ہے کہ بی جے پی کی بقا کے لئے پارٹی کی اندرونی مشکلات کو حل کرنا ضروری ہے۔ انتخابات کی تیاری کے لئے یہ مسائل فوری حل طلب ہیں۔
سیاسی تجزیہ اور دور رس اثرات
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بغاوت واقعی حقیقت میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں، نہ صرف منی پور میں بلکہ ملک بھر میں بی جے پی کی سیاسی حیثیت اور اس کی قیادت پر بھی۔ اگرچہ بی جے پی کے پاس ایک مضبوط بنیاد ہے، لیکن اس کی قیادت میں عدم استحکام ان کی سیاسی حکمت عملی کے لئے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
اس وقت سیاسی منظر نامے کی نگرانی ضروری ہے، اور دیکھنا ہوگا کہ آیا امت شاہ اور دیگر رہنما اس صورتحال کو سنبھالنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا حالات مزید بگڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح جب تک بی جے پی اپنی اندرونی مشکلات کو حل نہیں کرتی، تب تک یہ بحران جاری رہے گا اور ممکنہ طور پر منی پور کی سیاسی منظر نامے میں مزید تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

