موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کا عمل شروع، سکیورٹی کے بلند ترین انتظامات

نئی دہلی: دہلی اسمبلی کی تمام 70 نشستوں کے لیے بدھ کی صبح 7 بجے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا ہے۔ یہ عمل شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ ووٹرز میں واضح جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے، اور پولنگ مراکز پر لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔ دہلی کے ساتھ ساتھ تمل نادوں اور اتر پردیش کی اسمبلی سیٹوں پر بھی ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں، اور کیسے:
دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر آر ایلس واز نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھرپور طریقے سے جمہوری عمل میں حصہ لیں۔ یہ انتخابات دہلی کی تمام 70 نشستوں کے لیے ہو رہے ہیں، جن کا فوری اثر دہلی کی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔ یہ ووٹنگ عمل موجودہ ذہنیت اور سیاسی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ ووٹنگ کا یہ عمل آج صبح 7 بجے شروع ہوا اور شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ اس کا مقصد ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

سکیورٹی کے حوالے سے انتخابات کے دوران سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ تقریباً 97,955 انتخابی عملہ اور 8,715 رضاکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ سکیورٹی کے لیے سنٹرل ریزرو پولیس فورس کی 220 کمپنیاں، 19,000 ہوم گارڈ اہلکار اور 35,626 دہلی پولیس کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

انتخابی عمل میں سہولیات:
انتخابی عمل کے دوران بزرگ شہریوں اور معذور ووٹروں کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سہولیات میں وہیل چیئرز اور علیحدہ قطاروں کا انتظام شامل ہے تاکہ انہیں ووٹ ڈالنے میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزید یہ کہ الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کے دوران بھیڑ کم کرنے کے لیے ایک خصوصی ایپ بھی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے ووٹرز پولنگ اسٹیشنز پر موجود بھیڑ کی صورتحال جان سکتے ہیں۔

نتائج کی تاریخ:
دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج 8 فروری کو جاری کیے جائیں گے، جب یہ دیکھا جائے گا کہ کون سی جماعت کو دہلی میں اقتدار حاصل ہوتا ہے۔ ان انتخابات کا نتیجہ نہ صرف دہلی کی سیاسی منظرنامہ پر اثر ڈالے گا بلکہ یہ قومی سیاست پر بھی گہرا اثر مرتب کر سکتا ہے۔

سکیورٹی کا خاص خیال:
تقریباً 3,000 پولنگ بوتھس کو حساس قرار دیا گیا ہے، جہاں اضافی سکیورٹی تعینات کی گئی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ڈرون بھی پولنگ کے عمل پر نظر رکھیں گے تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورت حال کا فوری سامنا کیا جا سکے۔

عوام کی توقعات:
عام عوام کی جانب سے بھی یہ توقعات وابستہ ہیں کہ ان کے ووٹ کا اثر نہ صرف دہلی بلکہ ملک کی بھلائی کے لیے بھی ہوگا۔ دہلی ایک اہم ریاست ہے، جہاں کی سیاسی صورتحال کا ملکی سیاست پر اثر دہندہ ہوتا ہے۔

مناسب ساتھی روابط:
مزید معلومات کے لیے ہمارے دیگر مضامین بھی دیکھیں:[دہلی کے انتخابات کی تاریخ](#) اور[انتخابی عمل کی تفصیلات](#).

عوامی دلچسپی کے پیش نظر، ہمیں اس بارے میں بھی دیکھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ منصوبے عوام کے لیے کس حد تک مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایپ کی بدولت سہولت:
نئے ٹیکنالوجی کے استعمال کی بدولت، عام شہریوں کو ان کی پسند کے ممبر کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرنے میں آسانی ہوگی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ خصوصی ایپ سے نہ صرف ووٹنگ کا عمل جاری رکھا جائے گا بلکہ یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ کس پولنگ اسٹیشن پر کتنی بھیڑ ہے، تاکہ ووٹرز بہتر طور پر منصوبہ بندی کرسکیں۔

عزت فزوں:
دہلی اسمبلی انتخابات 2023 کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صرف ایک ریاستی انتخابات نہیں ہیں بلکہ اس کے نتائج ملکی سیاست کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دہلی میں سیاسی مقابلے ہمیشہ سے سخت رہے ہیں، اور اس بار بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ انتخابی مہم میں شدت دیکھنے کو ملے گی۔