موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

شیعہ مذہبی رہنما آغا خان چہارم کا پرتگال میں انتقال: ایک تاریخی لمحہ

پرتگالی سرزمین پر ایک عظیم رہنما کا انتقال

شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے 49ویں امام، آغا خان چہارم، نے 88 سال کی عمر میں پرتگال میں اپنے اہلِ خانہ کے درمیان آخری سانس لی۔ ان کی وفات کی خبر آغا خان فاؤنڈیشن کی جانب سے تصدیق کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ یہ اعلان ان کے جانشین کے بارے میں بعد میں کیا جائے گا۔ یہ واقعہ ایک بڑی شخصیت کے انتقال کا اظہار کرتا ہے جو پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور لاکھوں لوگوں کے لیے روحانی رہنمائی فراہم کرتے رہے۔

آغا خان چہارم کا انتقال لسبن میں ہوا، جہاں وہ کئی سالوں سے مقیم تھے۔ ان کے انتقال کی خبر نے نہ صرف اسماعیلی مسلمانوں میں بلکہ پوری دنیا میں تعزیت کی لہر پیدا کی ہے۔ ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابیوں میں ایک اہم معاملہ آغا خان فاؤنڈیشن کا قیام تھا، جس کے ذریعے انہوں نے دنیا کے غریب اور حاشیہ زدہ طبقات کی مدد کی اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کی کوشش کی۔

آغا خان چہارم کی زندگی کا سفر

آغا خان چہارم کی پیدائش 13 دسمبر 1936 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہوئی۔ وہ جوان یارڈے-بولر اور علی خان کے بیٹے تھے۔ اپنے بچپن کا کچھ حصہ انہوں نے کینیا کے نیروبی میں گزارا۔ آغا خان کو کھیلوں سے خاص شغف تھا اور انہوں نے 1964 کے سرمائی اولمپکس میں ایران کی نمائندگی کی تھی۔ ان کی زندگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ انہوں نے کئی شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

آغا خان چہارم نے آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے دنیا کے 188 ممالک میں انسانی، اقتصادی، اور تکنیکی وسائل کو یکجا کیا تاکہ انسانی مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے دوران بہت سی فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور عالمی سطح پر تعلیم، صحت، اور اقتصادی ترقی کے لیے کام کیا۔

ان کی قیادت کا اثر

آغا خان چہارم کی قیادت نے اسماعیلی طبقہ کو ایک نئی شناخت دی۔ ان کے دادا نے انہیں اسماعیلی مسلمانوں کی قیادت کرنے کا اختیارات عطا کیا، جس کے بعد انہوں نے اس کمیونٹی میں خاطر خواہ تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری کی کوششیں کیں اور اسماعیلی طبقہ کے لوگوں کے لیے زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا۔

آغا خان چہارم کی رہنمائی میں اسماعیلی طبقہ بنیادی طور پر بھارت میں مرکوز رہا، جہاں سے یہ مشرقی افریقہ، وسطی و جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں پھیلا۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ سماج کو بہتر بنانے کے لیے دولت جمع کرنے کا کوئی نظریہ نہیں ہونا چاہیے، اور اسلامی اخلاقیات کے مطابق، ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اختیار کا استعمال سماج کی بھلائی کے لیے کرے۔

آغا خان کے انتقال کا اثر

آغا خان چہارم کے انتقال نے اسماعیلی طبقہ کے افراد میں ایک خلا پیدا کیا ہے۔ ان کی رہنمائی کے بغیر یہ کمیونٹی کس طرح آگے بڑھے گی، یہ ایک بڑا سوال ہے۔ ان کے جانشین کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، اور دنیا بھر کے اسماعیلی اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کس طرح کا قیادت کا نمونہ سامنے آتا ہے۔

مستقبل کی توقعات

آغا خان چہارم کے انتقال کے بعد، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ان کا جانشین کون ہوگا اور وہ کس طرح اسماعیلی طبقہ کی قیادت کریں گے۔ اس وقت دنیا بھر میں ان کے پیروکار اور حامی ان کی خدمات کو یاد کرتے ہیں، اور ان کی زندگی کے اصولوں کی روشنی میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آغا خان چہارم کی زندگی نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ اجتماعی خدمت کا تصور کس قدر اہم ہے۔ ان کی فلاحی سرگرمیاں اور انسانی خدمت کا جذبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر ایک انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھے، اور یہ بات اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔

آغا خان چہارم کی وفات نے ایک نئے دور کی شروعات کی ہے، جہاں ان کی وراثت کو آگے بڑھانے کا موقع ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ آنے والے دنوں میں نئی قیادت اس مشن کو جاری رکھے گی، ہر اسماعیلی ان کی یاد میں شمعیں روشن کرتا رہے گا۔