موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سونے کی قیمتوں میں بے مثال اضافہ: عالمی مالیاتی عدم استحکام نے سونے کو چمکا دیا!

#### سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ: ایک معاشی تجزیہ

نئی دہلی: حالیہ عالمی مالیاتی عدم استحکام اور امریکہ-چین تجارتی کشیدگی کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (آئی بی جے اے) کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 قیراط سونے کی قیمت 1300 روپے بڑھ کر 84320 روپے فی 10 گرام تک پہنچ گئی ہے، جو کہ اس سے پہلے 83010 روپے فی 10 گرام تھی۔ یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم انتباہ ہے کہ مارکیٹ میں کس طرح کی غیر یقینی صورتحال چل رہی ہے۔

اس وقت، 22 قیراط سونے کی قیمت 82300 روپے فی 10 گرام، 20 قیراط سونے کی 75050 روپے، اور 18 قیراط سونے کی قیمت 63800 روپے فی 10 گرام ہے۔ یہ قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی بڑھتی ہوئی مانگ اور عالمی مالیاتی بحران کی شدت کی عکاسی کرتی ہیں۔

سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ کیوں ہوا؟ یہ سوال سرمایہ کاروں اور عام عوام کے ذہن میں گھوم رہا ہے، اور اس کا جواب بین الاقوامی مارکیٹ کی اور امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں اختلافات میں چھپا ہوا ہے۔

#### سونے کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات اور اثرات

کاما جیولری کے مینیجنگ ڈائریکٹر کالن شاہ کے مطابق، بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 2880 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ ڈالر انڈیکس کا کمزور ہونا ہے، جو 109 سے کم ہو کر 107 پر آ گیا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اختلافات نے بھی سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا ہے، جس سے سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت جنوری کے آغاز سے اب تک 8 فیصد تک بڑھ چکی ہے اور فی الحال 2,891 ڈالر فی اونس پر ہے۔ کالن شاہ نے کہا کہ مستقبل قریب میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے اور یہ بین الاقوامی مارکیٹ میں 3000 ڈالر فی اونس اور مقامی مارکیٹ میں 88000 روپے فی 10 گرام تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک انتباہ ہے۔ اگرچہ امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو 30 دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے، تاہم چینی مصنوعات پر 10 فیصد تجارتی ٹیرف کے اپنے موقف پر قائم ہے۔ چین نے بھی جوابی اقدام کے طور پر امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کیے ہیں، جس سے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

#### سرمایہ کاروں کے لیے مشورے اور مستقبل کی پیشگوئی

سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر، سرمایہ کاروں کے لیے یہ وقت اہم فیصلہ لینے کا ہے۔ اگرچہ کچھ لوگ سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی عالمی اقتصادی حالات کی نگرانی بھی ضروری ہے۔ اعلیٰ قیمتوں کے باوجود، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ عارضی ہوسکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر تجارتی جنگ جاری رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ واقع ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں، سرمایہ کاروں کو اپنی حکمت عملیوں کو بہتر بنانا ہوگا اور مارکیٹ کی تبدیلیوں کا بغور تجزیہ کرنا ہوگا۔

باب کے لحاظ سے، سونے میں سرمایہ کاری کرنا ہمیشہ ایک محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس بازار میں شامل ہونے سے پہلے مکمل معلومات اور مشورے حاصل کرنا بہت اہم ہے۔ اس صورتحال میں، سرمایہ کاروں کو اپنی مالی حالت کے مطابق سرمایہ کاری کے فیصلے کرنے چاہیے۔

یہاں یہ بھی نوٹ کرنا ضروری ہے کہ عالمی مارکیٹ کی تبدیلیوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل کو سمجھنا اور اس کے مطابق خود کو تیار کرنا ہر سرمایہ کار کے لیے اہم ہے۔

موجودہ حالات میں، خاص طور پر جب کہ عالمی اقتصادیات کا پہیہ سست چل رہا ہے، سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے احتمالی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

ایسی حالتوں میں سرمایہ کاروں کو چاہئے کہ وہ بین الاقوامی خبریں اور مالیاتی تجزیے پر نظر رکھیں۔ یہ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے میں جلد بازی نہ کریں اور مکمل معلومات کی بنیاد پر عمل کریں۔