موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمین کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال کے نئے قواعد و ضوابط کی منظوری

حکومت جھارکھنڈ نے سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں

جھارکھنڈ کی ریاست میں حکومت نے سرکاری ملازمین کے لئے ایک نیا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے مخصوص قواعد و ضوابط جاری کیے گئے ہیں۔ یہ نئے اصول ملازمین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کرنے سے قبل کچھ ضروری باتوں کا خیال رکھنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ ان نئے قوانین کے تحت سرکاری ملازمین کو جھارکھنڈ کے پرسنل ڈپارٹمنٹ کی جانب سے فراہم کی گئی ہدایات کے دائرے میں رہنا ہوگا۔

یہ رہنما اصول خاص طور پر اس بات کو یقینی بنانے کے لئے بنائے گئے ہیں کہ ملازمین سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی نا مناسب یا متنازعہ معلومات پوسٹ نہ کریں۔ جیسے کہ دھمکی آمیز، فحش، یا سیاسی پوسٹس کرنا ممنوع ہوگا۔ ان قواعد کی پیروی نہ کرنے کی صورت میں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کے استعمال کے اصولوں کی تفصیلات

حکومتی اعلان کے مطابق، سرکاری ملازمین کو سوشل میڈیا پر کچھ مخصوص باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ ان میں شامل ہے:

1. **نرمی اور اخلاقیات کی پابندی**: ملازمین کو اپنے خیالات کو بیان کرتے وقت نرم لہجہ اختیار کرنا ہوگا اور معاشرتی اخلاقیات کی پاسداری کرنی ہوگی۔
2. **سیاسی بیانات کی ممانعت**: ملازمین کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرتے ہوئے کوئی بھی پیغام نہیں دے سکتے اور نہ ہی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرسکتے ہیں۔
3. **ذاتی معلومات کا تحفظ**: ملازمین کو اپنے ذاتی ڈیٹا یا تفصیلات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔

اگر کوئی ملازم ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔ جھارکھنڈ کے مکتی مورچہ کے قومی ترجمان منوج پانڈے نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ "ریاستی ملازمین کے لئے ضابطہ اخلاق لازمی ہے، کیونکہ یہ ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ سرکاری افسران اور ملازمین کا برتاؤ کیسا ہوگا۔”

کیا یہ اصول سرکاری ملازمین کی آزادی کو متاثر کریں گے؟

سرکاری ملازمین کے لئے سوشل میڈیا کے نئے قواعد کا مقصد ان کی آزادی کو محدود کرنا نہیں بلکہ ان کی ذمہ داریاں اور پیشہ ورانہ رویے کی وضاحت کرنا ہے۔ یہ قوانین ہمارے معاشرے میں مناسب اور غیر مناسب معلومات کی تقسیم کے سلسلے میں ایک مثبت قدم ہیں۔

سوشل میڈیا کے استعمال میں بڑھتی ہوئی غیر ذمہ داری اور غلط معلومات کا پھیلاؤ حکومتوں کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں عائد کریں تاکہ وہ اپنے عہدے اور حیثیت کا غلط استعمال نہ کرسکیں۔

جھارکھنڈ کی حکومت نے ان قوانین کی تشکیل سے پہلے مختلف ریاستوں کے تجربات کا بھی جائزہ لیا ہے۔ سرکاری ملازمین کے لئے یہ رہنما اصول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت اپنے ملازمین کی ذمہ داریوں کی نگرانی کے لئے سنجیدہ ہے۔

امیدیں اور توقعات

یہ قواعد و ضوابط سرکاری ملازمین کی پیشہ ورانہ زندگی میں ایک مثبت تبدیلی کا آغاز کرسکتے ہیں۔ ان اصولوں کے تحت ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے برتاؤ کو بہتر بنائیں، جو کہ نہ صرف ان کی اپنی بلکہ حکومت کی شبیہ کو بھی متاثر کرے گا۔

حکومت کا یہ قدم ان کے احترام اور صحیح ڈسپلن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ملازمین کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی سوچ اور رویوں کو بہتر بنائیں تاکہ وہ نہ صرف خود کو بلکہ پوری ریاست کو بھی ایک مثبت روشنی میں پیش کرسکیں۔

غیر اخلاقی استعمال کی روک تھام

یہ نئے اصول سرکاری ملازمین کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ ان کی ہر حرکت اور بیان کی اہمیت ہے۔ ایک غیر ذمہ دارانہ پوسٹ نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ حکومت کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اگر کوئی سرکاری ملازم سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرتا ہے تو نہ صرف اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی بلکہ اس کی ملازمت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ قوانین ان کے اپنے مفاد میں ہیں تاکہ وہ اپنی ملازمت کے دوران کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی سے بچ سکیں۔

مستقبل کی راستہ

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ نئے اصول سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے سرکاری ملازمین کی سوچ میں تبدیلی لا پائیں گے یا نہیں۔ اگر ملازمین ان قوانین پر عمل کریں تو سرکاری اداروں کی شفافیت اور پیشہ ورانہ رویے کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

حکومت کی کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر مروجہ غلط معلومات اور غیر اخلاقی رویوں کے تدارک کے لئے سنجیدہ ہے۔ اس کا مقصد سرکاری ملازمین کی ذمہ داریوں کو بہتر بنانا اور ان کی معاشرتی حیثیت کو مضبوط کرنا ہے۔