موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی اسمبلی انتخابات میں دھمکی آمیز الزامات، آتشی نے بی جے پی امیدوار کے بیٹے پر سنگین الزامات عائد کیے

انتخابات کے موقع پر دہلی میں ہنگامہ، آتشی نے الزام لگایا کہ منیش بدھوڑی علاقے میں لوگوں کو دھمکا رہے ہیں

دہلی میں اسمبلی انتخابات کی گہماگہمی بڑھ گئی ہے۔ ووٹنگ سے ایک دن قبل دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی نے بی جے پی امیدوار رمیش بدھوڑی کے بیٹے منیش بدھوڑی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ آتشی کا کہنا ہے کہ منیش بدھوڑی اپنے 3-4 ساتھیوں کے ساتھ جے جے کیمپ اور گری نگر کے علاقوں میں لوگوں کو دھمکا رہے تھے، جس کے بعد مقامی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔

آتشی کے مطابق، "پیر، 3 فروری کو انتخابی مہم ختم ہو چکی تھی اور شام 6 بجے کے بعد سائلنس پیریڈ کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس وقت کسی بھی باہر کے شخص کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ "ہمیں اطلاع ملی تھی کہ رمیش بدھوڑی کی ٹیم کا ایک فرد لوگوں کو دھمکا رہا ہے۔” آتشی کی اس شکایت کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کی، جس کی توقع کی جا رہی ہے کہ سختی سے نمٹا جائے گا۔

دوسری طرف، بی جے پی امیدوار رمیش بدھوڑی نے آتشی کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا، "آتشی شکست کے خوف میں ایسی بے بنیاد باتیں کر رہی ہیں۔ میرے دو بیٹے ہیں، ایک دہلی ہائی کورٹ میں وکیل ہے اور دوسرا ایک کمپنی میں وائس پریزیڈنٹ کے طور پر بیرون ملک کام کر رہا ہے۔” انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ خود فیصلہ کریں اور گمراہ نہ ہوں۔

سیاسی منظرنامہ اور انتخابات کی صورتحال

دہلی کے کالکا جی اسمبلی سیٹ پر آتشی کا مقابلہ بی جے پی کے رمیش بدھوڑی اور کانگریس کی الکا لامبا سے ہے۔ آتشی کی جماعت عام آدمی پارٹی (AAP) اپنی جیت کے لیے پُر اعتماد ہے جبکہ بی جے پی نے انتخابی مہم میں بھرپور کوششیں کی ہیں۔ رمیش بدھوڑی پہلے دہلی کے رکن پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں، لیکن انہیں 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے کے باعث اسمبلی انتخابات میں امیدوار بنایا گیا ہے۔

الزامات اور سیاسی کھیل

آتشی کا یہ الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دہلی میں انتخابی ماحول بہت ہی کشیدہ ہے۔ انتخابی مہم کے دوران، سیاست دانوں کے بیچ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں نے الزامات کے سلسلے میں ایک دوسرے پر جوابی حملے کیے ہیں۔

حفاظتی تدابیر اور پولیس کی کارروائیاں

یہ بھی واضح رہے کہ دہلی میں ہر قسم کی انتخابی دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے پولیس نے سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ پولیس فورس کے ساتھ ساتھ دیگر ادارے بھی اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ انتخابات میں کسی بھی قسم کی بدامنی پیدا نہ ہو۔ یہ صورتحال انتہائی اہم ہے، خاص طور پر جب پولنگ کا دن قریب ہو۔

مقامی رہنماؤں کا ردعمل

مقامی لیڈروں اور ووٹروں کی بھی یہ خواہش ہے کہ وہ اس انتخابات میں شفافیت کے ساتھ ووٹ ڈالیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ انتخابات میں کوئی بھی بدعنوانی یا دھوکہ نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کی طرف سے دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا جائے تو عوام کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔

عوامی رائے اور تاثر

عوامی حلقوں میں بھی اس واقعہ کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابی مہم کا حصہ ہے، جبکہ کچھ لوگ اس کو تشویشناک سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی واقعہ جو انتخابی عمل کو متاثر کر سکتا ہے، اس کی سختی سے مذمت کی جانی چاہیے۔

امیدواروں کی گرتی ہوئی ساکھ

دریں اثنا، بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں کے لیے یہ انتخابات اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کا بہترین موقع ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں جماعتوں کی مقبولیت میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ ایسے میں اس قسم کے الزامات خدمت کی ساکھ کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔

پولنگ کے دن کی توقعات

5 فروری کو ہونے والی ووٹنگ میں عوام کی شرکت کی توقع بہت زیادہ ہے۔ اس دن کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی مہمات میں کامیابی کی توقع کر رہی ہیں۔ عوام نے اس بار یہ عہد کیا ہے کہ وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے اور کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی یا دھمکی کا شکار نہیں ہوں گے۔

انتخابات کی اہمیت

یہ انتخابات نہ صرف دہلی کے عوام کی زندگیوں پر اثر انداز ہوں گے بلکہ یہ بھارت کی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ اس لیے ہر سیاسی جماعت کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اترے اور ان کے حقوق کا احترام کرے۔