موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

اکھلیش یادو کی پارلیمنٹ میں مہاکمبھ حادثے پر حکومت کی سخت تنقید، اعداد و شمار کی شمولیت کا مطالبہ

نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے قائد کی جانب سے زبردست سوالات اٹھائے گئے

نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے مہاکمبھ کے حادثے کے حوالے سے پارلیمنٹ میں حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے مہلوکین کے اعداد و شمار جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "حکومت اب تک مرنے والوں کے اعداد و شمار فراہم نہیں کر سکی، جبکہ بچوں کے اعداد و شمار تو بالکل ہی غائب ہیں۔ لوگ آج بھی اپنے پیاروں کو کھویا پایا مراکز پر تلاش کر رہے ہیں۔ مہاکمبھ میں کئی لوگ اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔”

ادیگر، اکھلیش نے مزید کہا کہ یہ مہاکمبھ کا انعقاد پہلی بار نہیں ہوا، بلکہ اس سے قبل بھی مختلف حکومتوں نے اس کا اہتمام کیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ مہلوکین کے لئے ایک مخصوص وقت نکالا جا سکے۔ اکھلیش یادو نے کہا، "حادثے کے دن شاہی اسنان کا عمل وقت پر نہیں ہو سکا، جس کی ایک خاص مہورت ہوتی ہے۔ یہ سناتن روایت کا حصہ ہے، لیکن وہ روایت اس دن ٹوٹ گئی۔”

ہمیں اعداد و شمار کیوں نہیں مل رہے؟

اکھلیش یادو نے اعداد و شمار کی عدم دستیابی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "اگر حکومت مہاکمبھ کے لیے بڑے پیمانے پر تشہیر کر سکتی ہے تو پھر مرنے والوں کے اعداد و شمار فراہم کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟” انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے تو وہ پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ "خواتین کے کپڑے اور لوگوں کی چپلیں جے سی بی کے ذریعے اٹھا کر ٹرالیوں میں پھینکی گئیں۔ حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ لاشیں کہاں لے جائی گئیں۔” ان کا کہنا تھا کہ "ڈیجیٹل کمبھ کرانے والی حکومت آج مرنے والوں کے اعداد و شمار تک نہیں دے پا رہی، جبکہ وزیر اعلیٰ نے مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔”

مہاکمبھ کی انتظامیہ فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ

اکھلیش یادو نے مہاکمبھ کی انتظامیہ کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "جب ڈیجیٹل تکنیک اتنی ترقی کر گئی ہے تو پھر یہ اعداد و شمار فراہم کرنے میں حکومت کو کیا مشکل ہے؟” انہوں نے صدر کے خطاب پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "خطاب میں وہی پرانی باتیں دہرائی گئیں جیسے 80 کروڑ لوگوں کو مفت راشن فراہم کرنا، 25 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالنا، 10 کروڑ گیس کنکشن دینا، جبکہ آبادی 105 کروڑ ہو رہی ہے تو حکومت کس آبادی کے لئے کام کر رہی ہے؟”

انہوں نے کہا، "دس سال پہلے جس جگہ کو کیوٹو بنانے کی بات کی گئی تھی، وہاں آج تک میٹرو شروع نہیں ہو سکی۔ اتر پردیش میں جو بھی میٹرو چل رہی ہے، وہ سماجوادی حکومت کی دین ہے۔” یہ تصدیق کی جا رہی ہے کہ اکھلیش یادو نے موجودہ حکومت کی پرفارمنس پر سوالات اٹھائے ہیں اور اس معاملے میں عوامی جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔

کسانوں کی زمین اور ان کے حقوق

اکھلیش یادو نے زمین کے حصول پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ "کسانوں کو ان کی زمین کا مناسب معاوضہ کیوں نہیں دیا جا رہا؟ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس پر حکومت کو غور کرنا ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "سماجوادی حکومت نے جب ایکسپریس وے بنایا تو اس کا افتتاح سخوئی اور میراج طیارے اتار کر کیا گیا۔ یہ واضح ہے کہ اس کا ڈیزائن بی جے پی نے نہیں بنایا تھا۔”