موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

سپریم کورٹ نے یو اے پی اے کی دفعات چیلنج کرنے والی درخواستیں دہلی ہائی کورٹ منتقل کرنے کی منظوری دے دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات 35 اور 36 کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت سے انکار کر دیا ہے اور معاملہ دہلی ہائی کورٹ کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اہم قانونی معاملات کو سر فہرست عدالت میں سننے سے پہلے ہائی کورٹ میں سنا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی ممکنہ پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں اور کیسے؟

سپریم کورٹ کی یہ فیصلہ چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور دیگر ججوں کی بنچ کی جانب سے آیا، جن میں جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشوناتھن شامل تھے۔ یہ درخواستیں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس اور ایک شہری حقوق کارکن سجل اوستھی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں نے یہ شکوہ کیا کہ 1967 کے یو اے پی اے قانون میں 2019 میں کی گئی ترامیم حکومت کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ کسی بھی شخص کو من مانی طور پر دہشت گرد قرار دے سکتی ہے، جس کے نتیجے میں متاثرہ فرد کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

عدالت نے یہ بھی وضاحت کی کہ اگر سپریم کورٹ براہ راست ان درخواستوں کی سماعت کرے تو اس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جیسا کہ دونوں فریقین کے دلائل کے کچھ نکات رہ سکتے ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ سی یو سنگھ، جو درخواست گزاروں کے وکیل ہیں، نے عدالت میں یہ بات پیش کی کہ یہ معاملہ پچھلے پانچ سال سے زیر سماعت ہے اور جب عدالت دیگر اہم آئینی مسائل کا جائزہ لے رہی ہے تو اس معاملے کو بھی سنا جانا چاہیے۔

یو اے پی اے کے خلاف اعتراضات

درخواست گزاروں کی جانب سے بیان کیا گیا کہ ان کی رائے میں، یہ ترمیمات بنیادی حقوق جیسے کہ برابری، آزادی، اور عزت کے خلاف ہیں۔ اس پر چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے واضح کیا کہ ان کے دلائل کی اہمیت یوں ہی برقرار رہے گی اگر یہ معاملہ ہائی کورٹ میں سنا جائے۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کی اپیل قبول کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو دہلی ہائی کورٹ کو منتقل کر دیا جائے گا تاکہ وہاں مناسب قانونی کارروائی کی جا سکے۔

عدالت نے ان درخواست گزاروں کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ دہلی ہائی کورٹ میں یہ معاملہ زیادہ موزوں طور پر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ وہ ریٹائرڈ سرکاری افسران ہیں اور دیگر ہائی کورٹوں میں پیروی کرنا ان کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ قانونی نظام میں انصاف کی فراہمی کو محسوس کیا جا رہا ہے، خاص طور پر جب بڑی تعداد میں اس طرح کی درخواستیں مختلف ہائی کورٹوں میں زیر التوا ہیں۔

مزید قانونی پس منظر

درخواست گزاروں نے اپنی درخواست میں یہ بھی ذکر کیا کہ یو اے پی اے کی دفعات میں تبدیلیاں حکومت کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ بلا وجہ لوگوں کو دہشت گرد قرار دے، جو کہ آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے تحت، عوامی حقوق کے تحفظ کی تنظیمیں اور شہری حقوق کے کارکنوں نے اپنی آواز بلند کی ہے کہ حکومت کی طرف سے اس طرح کی من مانی کارروائیاں انسانی حقوق کی پامالی کا سبب بن سکتی ہیں۔

یہ معاملہ عدالت میں محض قانونی نہیں بلکہ انسانی حقوق کے تناظر میں بھی اہم حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے سپریم کورٹ نے اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اسے دہلی ہائی کورٹ کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں شہری حقوق کے تحفظ کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا ہے اور مختلف تنظیمیں اس بارے میں آواز اٹھا رہی ہیں۔

آگے کا راستہ

آگے بڑھتے ہوئے، اب یہ دہلی ہائی کورٹ پر ہے کہ وہ اس معاملے کی سماعت کرے اور دیکھے کہ کیا یو اے پی اے کی موجودہ دفعات آئین کے تحت دیے گئے حقوق کے مطابق ہیں یا نہیں۔ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت کو اتنی طاقت دی جا سکتی ہے کہ وہ کسی بھی فرد کو بغیر کسی ثبوت کے دہشت گرد قرار دے سکے، جو کہ ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے۔

عدالت کی جانب سے اس معاملے کو ہائی کورٹ کو منتقل کرنے کی اجازت کے بعد، درخواست گزاروں کی امیدیں ایک نئی سمت میں بڑھ گئی ہیں کہ وہ اپنی آواز کو قانونی طور پر بلند کر سکیں گے اور اپنی حقوق کی حفاظت کے لیے جدوجہد جاری رکھ سکیں گے۔ یہ ایک اہم موقع ہوگا جب عدالت میں اس قسم کی دفعات پر گفتگو کی جائے گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ آیا ان کا مقصد عوامی تحفظ ہے یا صرف حکومت کی طاقت میں اضافہ۔

یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے نہ صرف قانونی نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ اس کے ذریعے عوامی سطح پر بھی شعور بیدار ہونے کی امید ہے کہ انہیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔