راجیہ سبھا میں اہم بحث: مذہبی باباؤں کی فیکٹری بند کرنے کی ضرورت
راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی تقریر پر شکریہ کی تجویز کے دوران، آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج کمار جھا نے ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی توہم پرستی پر سخت الفاظ میں اظہار خیال کیا۔ منوج جھا نے کہا کہ ملک میں ایک "باباؤں کی فیکٹری” وجود میں آ چکی ہے، جسے بند کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ یہ صورتحال ہر مذہب میں توہم پرستی کی بڑھتی ہوئی علامات کی عکاسی کرتی ہے۔
منوج جھا کے مطابق، سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایک مشترکہ وصیت تیار کرنی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وصیت میں یہ واضح کیا جانا چاہئے کہ کوئی بھی "وی وی آئی پی درشن” کسی بھی مندر یا درگاہ میں نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مذہبی توہم پرستی اور مذہبیت کا فرق کم ہوتا جا رہا ہے، جو کہ آئین کے نظریہ سے متصادم ہے۔
مکالمہ کا پس منظر: بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات
راجیہ سبھا میں منوج جھا نے محض مذہبی توہم پرستی کی بات نہیں کی بلکہ معاشی مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی عدم مساوات بڑھ رہی ہے، جو آنے والے سالوں میں مزید مسائل پیدا کرے گی۔ بے روزگاری کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ "ہر تین نوجوانوں میں سے دو بے روزگار ہیں۔” یہ ایک تشویشناک مسئلہ ہے، خصوصاً بہار جیسے ریاستوں میں جہاں ترقی کے مواقع محدود ہیں۔
منوج جھا نے بہار میں اعلیٰ عہدوں کے امتحانات کی بے ضابطگیوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "کریکولم ویٹا” کے مطابق، گزشتہ کچھ سالوں میں کوئی بھی امتحان بے ضابطگی سے پاک نہیں رہا۔ جب نوجوان انصاف مانگنے جاتے ہیں تو ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے، جو کہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔
مذہبی توہم پرستی کا خاتمہ: ایک اجتماعی کوشش کی ضرورت
منوج جھا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی توہم پرستی کے خاتمے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک موزوں اقدام اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ قومی سطح پر ایک مشترکہ سیاسی وصیت تیار کی جائے تاکہ لوگ حقیقت کو سمجھ سکیں اور دھوکہ دہی سے بچ سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں "بابا” کی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی مشکلات کے حل کے لئے ان کے پاس جاتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک خیال ہے جو کہ عوام کی عقل و فہم کو چیلنج کرتا ہے۔
مستقبل کی راہیں: نوجوانوں کو بااختیار بنانا
منوج جھا نے کہا کہ کشمیر، بہار اور دیگر علاقوں کے نوجوانوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا تاکہ وہ مذہبی توہم پرستی کے جال سے نکل سکیں۔ نوجوانوں کی تعلیم اور ان کی بااختیاری کے لئے اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر ہم نوجوانوں کو درست تربیت اور مواقع فراہم کریں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لا سکتے ہیں۔
اجتماعی بصیرت: آئندہ کی ذمہ داری
اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔ اگرچہ ہر جماعت کا اپنا نظریہ ہوتا ہے، لیکن مذہبی توہم پرستی اور بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جب ہم ایک قوم کی حیثیت سے کھڑے ہوتے ہیں تو ہم اپنی قوت میں اضافہ کرتے ہیں۔
تمام جماعتوں سے اپیل
منوج جھا نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آئیں اور اس مسئلے کا مؤثر حل نکالیں۔ "ہم سب کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ ان مسائل کا حل صرف سیاست کی دنیا میں نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی تلاش کرنا ہوگا۔”

