موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

مہا کمبھ بھگدڑ: پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی تند و تیز نعرے بازی، بد انتظامی پر بحث کا مطالبہ

پارلیمنٹ میں مہا کمبھ بھگدڑ کے معاملے پر ہنگامہ

آج پارتی اسمبلی کا تیسرا دن ہے، جس میں اپوزیشن نے مہا کمبھ کے دوران ہونے والی بھگدڑ کی وجہ سے 30 انسانی جانوں کے ضیاع پر سخت رد عمل دکھایا ہے۔ اپوزیشن اراکین نے پیر کو پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوتے ہی "کمبھ پر جواب دو” کے نعرے لگانا شروع کر دیے۔ یہ واقعہ پریاگ راج میں مونی اماوسیہ کے روز پیش آیا، جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

عدالت اور پارلیمنٹ میں کیا ہونے والا ہے، یہ جاننے کے لیے اہم ہے کہ یہ بھگدڑ کیوں ہوئی اور اس کے پیچھے کیا وجوہات تھیں۔ اپوزیشن نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اس اہم انسانی مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی۔ اس واقعے میں مرنے والوں کی اصل تعداد کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ حکام نے صرف 30 اموات کا ذکر کیا ہے۔

اس واقعے کے بعد پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ہنگامے کا آغاز ہوا، جس کے دوران اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن رہنماؤں کے رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بحث کا مطلب سوالات کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ہنگامہ آرائی کرنا۔

حکومت کا جواب نہ دینا عوامی مایوسی کا باعث

اپوزیشن نے حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مہا کمبھ کے دوران ہونے والی اموات کی اصل تعداد بتائی جائے۔ کرن رجیجو، جو کہ مرکزی وزیر ہیں، نے اراکین پارلیمنٹ سے پُرامن رہنے کی اپیل کی۔ تاہم، اپوزیشن سختی سے اپنے مطالبے پر قائم رہی اور نعرے بازی جاری رکھی۔

آج کی کارروائی کے دوران، اسپیکر نے کہا کہ یہ معاملہ صدر جمہوریہ محترمہ کی تقریر میں بھی زیر بحث آیا تھا، اور اراکین کو چاہئے کہ وہ بحث کے دوران اس معاملے کو اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ عوامی دلچسپی کا ہے، اور اس کی بحث اہمیت رکھتی ہے۔

بھگدڑ کا یہ واقعہ محض بے ہنگم انتظامات کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کو اس مسئلے پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ مہا کمبھ جیسے بڑے مذہبی اجتماع کے دوران بنیادی سہولیات کی کمی تھی، جس سے لوگوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو گیا۔

مہا کمبھ بھگدڑ کا پس منظر

یہ واقعہ 29 جنوری کو پیش آیا، جب لاکھوں devout, ایک ہی جگہ پر جمع تھے۔ یہ موقع نہ صرف مذہبی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی حفاظت کے لیے مناسب انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی مہا کمبھ میں بڑے ہنگامے پیش آ چکے ہیں، لیکن اس بار ہونے والی بھگدڑ نے عوامی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اپوزیشن کا خیال ہے کہ اس بھگدڑ کی وجہ سے حکومتی بد انتظامی عیاں ہوگئی ہے۔ پریاگ راج میں اس تقریب کے دوران حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث بھگدڑ پیدا ہوئی۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

بھگدڑ کے بعد، اپوزیشن نے ایوان میں اجتماعی طور پر احتجاج کیا اور راجیہ سبھا میں بھی ہنگامہ کیا۔ چیئر مین جگدیپ دھنکھڑ نے ایوان کو بتایا کہ انہیں ضابطہ 267 کے تحت بحث کے لیے نوٹس موصول ہوئے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے مہا کمبھ کے دوران ہونے والی بد انتظامی کے معاملے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔

آگے کی راہیں

سپیکر نے اراکین پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ سوالات کرنے کی بجائے ایوان کی کاروائی کے دوران ہنگامہ نہ کریں۔ اس کے علاوہ، اسپیکر نے واضح کیا کہ عوام نے انہیں سوالات کرنے کے لیے منتخب کیا ہے تاکہ حکومت ان کے سامنے جوابدہ ہو سکے۔

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ حکومت اب اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھے گی، اور ممکن ہے کہ وہ مہا کمبھ کی انتظامی بے ضابطگیوں پر عوامی تحفظ کی بات کرے۔

مہا کمبھ کی بھگدڑ کے بعد، عوامی سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر سخت رد عمل دیکھنے کو ملا ہے۔ لوگ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ بہت سے لوگوں نے اس واقعے کے بارے میں توجہ دلائی ہے کہ یہ ایک مذہبی تقریب کے دوران ایسی بد انتظامی پر ایک بڑی مایوسی کا باعث بن گیا۔