موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

بہار: کانگریس کے رہنما شکیل احمد خان کے بیٹے کی افسوسناک خودکشی، پورے خاندان میں سوگ کا عالم

پٹنہ میں ایک دل ہلا دینے والا واقعہ، شکیل احمد خان کے بیٹے نے زندگی کا خاتمہ کیا

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں کانگریس کے معروف رہنما شکیل احمد خان کے 18 سالہ بیٹے ایان خان نے خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ پٹنہ سکریٹریٹ کے علاقے میں واقع شکیل احمد خان کے سرکاری فلیٹ میں پیش آیا، جبکہ شکیل خان اس وقت شہر سے باہر تھے۔ ایان کی خودکشی کے بعد پورے کنبے میں سوگ کا عالم ہے اور یہ واقعہ نہ صرف خاندان بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی زبردست دھچکہ دے گیا ہے۔

کیا ہوا؟ کب ہوا؟ کہاں ہوا؟ کیوں ہوا؟ اور کیسے ہوا؟

یہ افسوسناک واقعہ پٹنہ کے سکریٹریٹ علاقے میں پیش آیا، جہاں ایان خان نے اپنے کمرے میں پھندا لگا کر خودکشی کر لی۔ ذرائع کے مطابق ایان نے رات کے کھانے کے بعد اپنے کمرے میں جانے کا فیصلہ کیا اور صبح جب اس کی لاش ملی تو پورے خاندان میں ایک بھاری سناٹا تھا۔ ایان کا والد، شکیل احمد خان، جو کہ کانگریس پارٹی کے ایک اہم رہنما ہیں، اس وقت بہار سے باہر تھے اور جیسے ہی انہیں اس واقعے کی خبر ملی، وہ جلد ہی واپس لوٹے۔

خودکشی کے اس واقعے کی اصل وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہیں، لیکن یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ 18 سالہ نوجوان، جو کہ اپنی جوانی کی راہ پر گامزن تھا، نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا۔ پولیس نے اس واقعے کی جانچ شروع کر دی ہے اور فوری طور پر اطلاع کے بعد فورینسک ٹیم بھی جائے وقوع پر پہنچی۔

پولیس کی کارروائی اور سیاسی افراد کی تعزیت

پولیس نے ایان کی لاش کو تحویل میں لے لیا اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ شکیل احمد خان کے قریبی دوستوں اور سیاسی ساتھیوں نے اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بہار میں کانگریس کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک بڑا دھچکہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ شکیل خان کی شبیہہ ایک ذمہ دار اور صاف ستھری رہنما کی رہی ہے۔

اس واقعے کے بعد متعدد سیاسی رہنماؤں نے شکیل خان اور ان کے خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ آزاد ایم پی پپو یادو نے کہا کہ "میں اس واقعے سے بہت غمزدہ ہوں، یہ بہار کے سیاست میں ایک بڑی نقصان ہے۔” اسی طرح بی جے پی کے رہنما شاہنواز خان بھی اپنے افسوس کا اظہار کرنے شکیل خان کے گھر پہنچے۔

خودکشی کی وجوہات کا تجزیہ

اہل خانہ اور قریبی دوستوں کے مطابق ایان ایک مہذب نوجوان تھا اور اس کی تعلیمی زندگی بھی کافی اچھی گزری۔ اس کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی مایوسی کا شکار دکھائی نہیں دیتا تھا۔ مگر اس حادثے نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ خودکشی کے پیچھے ممکنہ وجوہات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے ذہنی صحت کے مسائل کی جانب اشارہ کیا ہے، جو نوجوانوں میں عام ہو رہے ہیں۔ یہ مسئلہ اب کئی نوجوانوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور یہ ہماری سماجی و معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم اس پر غور کریں۔

میڈیا کی رپورٹنگ

یہ واقعہ ‘آج تک’ کی رپورٹ کے مطابق پیش آیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایان کی طرف سے خودکشی کا یہ واقعہ گھر میں موجود افراد کے لیے ایک سانحے کی طرح ہے۔ دن کی روشنی میں جب ایان کی لاش ملی تو پورے کنبے میں ایک خاموش نقصان کی کیفیت چھا گئی۔

مثبت تبدیلی کا وقت

اس واقعے نے ایک بار پھر ذہنی صحت کے مسائل کو سامنے لانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو کیا چیلنجز درپیش ہیں اور انہیں سپورٹ کرنے کے لئے ہمیں کیا کوششیں کرنی چاہییں۔ ایان خان کی خودکشی ایک افسوسناک واقعہ تو ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک موقع بھی ہے کہ ہم اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور ذہنی صحت کے معاملات پر کھل کر بات کریں۔

ایک نئی شروعات کی ضرورت

یہ افسوسناک واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی معمولی چیزوں پر بھی ہمیں خاص توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں سے زیادہ توجہ دینی، ان کی باتیں سننے کی عادت اپنانی، اور ان کی مشکلات کا خیال رکھنا چاہیے۔ جیسے ہی شکیل خان کے خاندان میں سوگ کا عالم ہے، ہمیں ایک بہتر سماج کی تشکیل کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی اور ایان اس طرح کے فیصلے نہ کرے۔

یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے اور ہمیں اس مسئلے کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کے لئے کام کرنا چاہیے۔