موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

شیئر بازار کی دھڑام: 5 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان، بجٹ یا تجارتی جنگ کا اثر؟

مرکزی بجٹ کی پیشی کے بعد شیئر بازار میں غیر متوقع گراوٹ

آج صبح جب شیئر بازار کھلا تو سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک بڑی صدمہ ثابت ہوا۔ مرکزی بجٹ کی پیشی کے بعد پہلے کاروباری سیشن کے آغاز میں ہی بی ایس ای سینسیکس اور نفٹی انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ عالمی تجارتی جنگ کے خدشات کے باعث بھی ایشیائی بازاروں میں تناؤ پیدا ہوا ہے، جس کا اثر بھارتی مارکیٹ پر بھی دیکھا گیا۔

کیا ہوا؟

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ معاملہ کیا ہے۔ آج کے کاروباری سیشن کے دوران بی ایس ای سینسیکس میں 695 پوائنٹس یعنی 0.91 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ مارکیٹ 76812 پوائنٹس پر بند ہوئی۔ دوسری طرف، نفٹی 50 انڈیکس نے بھی 211 پوائنٹس یعنی 0.90 فیصد کی کمی کے ساتھ 23271 پوائنٹس کی سطح تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ اس گراوٹ کے نتیجے میں بی ایس ای پر لسٹیڈ تمام کمپنیوں کا مارکیٹ کیپ 4.63 لاکھ کروڑ روپے گھٹ کر 419.21 لاکھ کروڑ روپے رہ گیا۔

کہاں اور کب؟

یہ گراوٹ آج یعنی[تاریخ]کو پیش آئی، جب کہ مرکزی بجٹ کی پیشی[تاریخ]کو ہوئی۔ یہ بجٹ ہمیشہ سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہوتا ہے، کیونکہ اس سے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی نشاندہی ہوتی ہے اور مارکیٹ کی سمت کا تعین کیا جاتا ہے۔

کیوں اور کیسے؟

یہ گراوٹ صرف بھارت تک محدود نہیں رہی، بلکہ عالمی سطح پر تجارتی مسائل کا اثر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا، میکسیکو اور چین پر ٹیرف لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد عالمی ترقی پر اثرات کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ کینیڈا اور میکسیکو نے فوری جوابی کارروائی کی ہے جبکہ چین نے بھی معاملے کو عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں لے جانے کی دھمکی دی ہے۔

سیکٹرز میں گراوٹ کی تفصیلات

اس دھڑام کی سب سے بڑی وجہ مختلف سیکٹرز میں آئی گراوٹ ہے۔ میٹل سیکٹر میں سب سے زیادہ 3.19 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ رئیلٹی انڈیکس میں 2.07 فیصد، نفٹی آئی ٹی میں 1.44 فیصد، بینکنگ سیکٹر میں 1.04 فیصد، فارما میں 1.10 فیصد، ہیلتھ کیئر میں 1.01 فیصد، آئل اینڈ گیس میں 1.79 اور فائنانشیل سروسز میں 0.91 فیصد گراوٹ آئی ہے۔

اس کے علاوہ بی ایس ای کی مڈکیپ اور اسمال کیپ انڈیکس میں بھی 1.49 فیصد اور 1.53 فیصد کی گراوٹ شامل ہے۔ خاص طور پر اسکان اور ویدانتا جیسی بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں 5 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

سرمایہ کاروں کے تاثرات

سرمایہ کاروں کی جانب سے یہ خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ اگر تجارتی جنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کا عالمی معیشت پر گہرا اثر مرتب ہو سکتا ہے۔ بہت سی کمپنیوں کا مارکیٹ کیپ گرتا جا رہا ہے اور یہ بات سرمایہ کاروں کو مزید محتاط بنا رہی ہے۔

گلوبل مارکیٹ کا اثر

آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ گراوٹ صرف بھارتی مارکیٹ میں نہیں، بلکہ دیگر ایشیائی ممالک سمیت عالمی سطح پر بھی محسوس کی گئی ہے۔ تجارتی جنگ کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھنے کو ملا ہے۔

نتیجہ

اس دھڑام کے بعد سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں پر دوبارہ غور کریں اور مارکیٹ کی موجودہ صورت حال کے مطابق اپنی سرمایہ کاری کو منظم کریں۔ عالمی تجارتی کشیدگی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہے گا۔