موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزب اختلاف برہم

سائبر سیکیورٹی کا سرکاری دعویٰ یا ریاستی نگرانی کا...

ہند-نیپال سرحد سے 6 ماہ میں 100 خواتین غائب: انسانی اسمگلنگ کا شبہ

ہند-نیپال سرحد سے گزشتہ 6 ماہ میں تقریباً 100...

دہلی ہائی کورٹ کا طلاق کا فیصلہ: شادی میں اعتماد کی اہمیت پر زور

دہلی ہائی کورٹ نے طلاق کے مقدمے میں فیصلہ...

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں: بہار کے انتخابی نتائج کا سیاسی متن و حاشیہ

بہار اسمبلی انتخابات 2025، این ڈی اے کی غیر...

دہلی دھماکے کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات، شہریوں کے تعاون کی ضرورت

دہلی دھماکے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی...

دہلی اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا

دہلی کی سیاست میں کانگریس کی بھرپور واپسی

دہلی اسمبلی انتخابات کی تشہیر تیزی سے جاری ہے اور اس دوران بھارتی کانگریس پارٹی نے اپنی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ دہلی کانگریس کے اعلیٰ رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس میں عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئیں تو وہ اپنے عہدوں کو ہر قیمت پر پورا کریں گے۔ اس موقع پر دہلی کانگریس کے صدر دیوندر یادو، دہلی کے سابق وزیر ہارون یوسف، شیلا دکشت کے بیٹے سندیپ دکشت اور دلت رہنما ادت راج جیسے اہم شخصیات موجود تھیں۔ یہ عہد دہلی کے عوام کے سامنے کیا گیا تاکہ ان کی حمایت حاصل کی جا سکے۔

کون، کیا، کہاں، کب، کیوں اور کیسے؟

یہ واقعہ دہلی کی سیاسی سرگرمیوں کے مرکز میں پیش آیا جہاں اہم رہنماؤں نے اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا۔ ہارون یوسف نے دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت کی پچھلی حکومت پر شدید تنقید کی، خاص طور پر گندے پانی اور سیوریج کے مسائل کی جانب نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے لوگ آج بھی شیلا دکشت کی قیادت والی حکومت کے دور کو یاد کرتے ہیں۔ جبکہ سندیپ دکشت نے صحت کے نظام کی بدحالی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ دہلی کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب ووٹر خود انتخاب لڑنے لگے، تو نتیجہ کانگریس کے حق میں یقیناً نکلتا ہے۔

ادھر ادت راج نے اروند کیجریوال کے بعض بیانات پر سوالات اٹھائے اور کووڈ کے دوران حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیجریوال نے اقلیتوں کے مسائل کے بارے میں کبھی آواز نہیں اٹھائی، خاص طور پر تبلیغی جماعت کے معاملے میں۔ کیجریوال کے رویے اور شمال مشرقی دہلی کے دنگوں پر خاموشی نے بھی ان کے دل میں سوالات پیدا کیے۔

کانگریسی رہنماؤں نے عہد کیا کہ وہ دہلی کی فضائی آلودگی، گندے پانی، ٹریفک جام اور جمنا کی صفائی جیسے مسائل پر کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے لیں گے اور ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

مقامی مسائل پر زور

دہلی کے رہنماؤں نے متعدد مقامی مسائل کا ذکر کیا جنہوں نے عوام کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ہارون یوسف کا کہنا تھا کہ دہلی میں بجلی اور پانی کی فراہمی بھی ایک چیلنج ہے، خاص طور پر موسم گرما میں جب پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین ہو جاتا ہے۔ سندیپ دکشت نے صحت کے نظام کی بدحالی کی جانب اشارہ کیا اور بتایا کہ کووڈ کی وبا کے دوران عوام کو کس طرح مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ادھر ادت راج نے دلتوں کے مسائل پر بھی بات کی اور کہا کہ انہیں حکومت کی جانب سے مناسب نمائندگی نہیں ملی۔ انہوں نے قومی آواز کی حمایت کی اور طلب کی کہ دلتوں کو ان کے حقوق ملیں اور ان کی آواز سننے کے لئے کسی خاص پالیسی کی ضرورت ہے۔

خلاصے کی طرف

کانگریس کی جانب سے دہلی اسمبلی انتخابات میں سخت محنت کی جا رہی ہے اور یہ عہد کیا جا رہا ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ تمام رہنماؤں نے مل کر عوام سے وعدہ کیا کہ وہ اپنے مسائل کو حل کریں گے اور دہلی کی مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے ایک موثر حکمت عملی تیار کریں گے۔

دہلی اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں جاری ہیں اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنی تیاریاں کر رہی ہیں۔ عوام کی جانب سے یہ دیکھنا باقی ہے کہ کون سی جماعت ان کے مسائل کو بہتر طور پر حل کرنے میں کامیاب ہوگی۔